.

شام : شمال مغربی علاقوں میں باغیوں کےاسدی فوج پر جوابی حملوں کے بعد لڑائی میں شدّت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی علاقے میں باغیوں کے اسدی فوج کے حملے کو پسپا کرنے کے لیے جوابی کارروائی کے بعد لڑائی میں شدت آگئی ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق فوج نے شمال مغرب میں واقع صوبہ حماہ میں ایک گاؤں میں باغیوں کا نیا حملہ پسپا کردیا ہے اور محاذ ِجنگ پر مزید کمک بھیج دی ہے۔باغیوں نے اس گاؤں پر گولہ باری بھی کی ہے۔

باغی دھڑوں نے قبل ازیں جمعرات کی شب حماہ میں تین اہم دیہات پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔انھوں نے سرکاری فورسز کے اپنے ٹھکانوں پر دوبارہ قبضے کے دعوے کو بھی مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ جمعہ کو شدید لڑائی میں فوج کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔

شمال مغرب صوبے ادلب اور اس کے پڑوس میں واقع حماہ کے بعض علاقوں میں صدر بشار الاسد کی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان گذشتہ سال موسم گرما کے بعد پہلی مرتبہ شدید لڑائی ہورہی ہے۔شامی فوج باغیوں کے زیر قبضہ رہ جانے والے ان دونوں صوبوں میں حکومت کی عمل داری کے قیام کے لیے جنگی کارروائی کررہی ہے۔

شامی فوج اور اس کی اتحادی روسی فوج نے باغیوں کے زیر قبضہ ان علاقوں پر حالیہ دنوں میں تباہ کن بمباری بھی کی ہے جس کے نتیجے میں بیسیوں عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں، ہزاروں افراد اپنی جانیں بچانے کے لیے ترکی کے سرحد ی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں اور انھوں نے وہاں عارضی پناہ لے رکھی ہے۔

روسی اور اسدی فوج کی اپریل کے بعد تباہ کن بمباری کے نتیجے میں ان دونوں صوبوں میں صحت عامہ کے 55 مراکز بند ہوچکے ہیں۔ترکی نے روس سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں جنگی کارروائی کی شکایت کی ہے اورا س کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اس نے الٹا ترکی سے کہا ہے کہ وہ شامی باغیوں کو نکیل ڈالے۔

گذشتہ سال روس کے ساتھ جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت ترکی نے ادلب میں مختلف مقامات پر اپنے فوجی تعینات کر رکھے ہیں ۔اس کے علاوہ ترکی کے حمایت یافتہ باغیوں کے زیر قبضہ شمالی علاقوں میں بھی ترک فوجی تعینات ہیں۔

روسی اور شامی فوج نے ادلب اور اس کے نواحی علاقوں میں اسپتالوں اور طبی مراکز کے علاوہ اسکولوں پر بھی فضائی حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں وہاں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوچکی ہیں۔اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے شام کے شمالی علاقوں میں صورت حال کو مایوس کن قرار دیا ہے اور جنگی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

رابطہ دفتر کے ترجمان جینز لارکی نے جمعہ کو جنیو ا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ جن اسپتالوں کو فضائی حملوں میں اب تک نشانہ نہیں بنایا گیا ہے،انھیں بھی نشانہ بنائے جانے کا خدشہ لاحق ہے،اس لیے وہاں سے ڈاکٹر اور طبی عملہ جارہا ہے مگر مریض کہیں نہیں جا رہے ہیں۔