.

حمد بن جاسم کی برطانوی اخبار کو انٹرویو میں سعودی عرب پرشدید تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے سابق وزیراعظم اور وزیرخارجہ حمد بن جاسم آل ثانی نے سعودی عرب پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ مکہ معظمہ میں ہونے والی خلیج تعاون کونسل اور عرب سربراہ کانفرنسوں کے دوران قطری وزیراعظم نے اصولی موقف اختیارکیا۔ تاہم بعد ازاں دوحہ نے مکہ کانفرنسوں کے اعلامیوں پرتنقید کرتے ہوئے انہیں مسترد کردیا تھا۔

برطانوی اخبار'ٹیلی گراف' کو دیے گئے انٹرویو میں حمد بن جاسم نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے تمام رُکن ممالک کوبرابری کی بنیاد پرایک دوسرے کےساتھ معاملات استوار کرنا چاہئیں۔

خیال رہے کہ حمد بن جاسم قطرکے سابق وزیراعظم اور سابق وزیرخارجہ رہ چکےہیں اور اس وقت قطر سے باہر برطانیہ میں مستقل طورپر مقیم ہیں۔

اُنہوں‌ نے ٹیلی گراف کو یہ انٹرویو لندن کے ہائیڈپارک میں واقع اپنی لگژری فلیٹ کی بالائی منزل پر دیا۔ اخبار نے یہ رپورٹ کو'لندن کاخیردار شخص' کےعنوان سے شائع کی گئی ہے۔ سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم نے اپنے دور حکومت میں برطانیہ میں 40 ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کی تھی۔ انہوں نے ہاروڈز چین کے شیئرز خرید کیے اور بارکلیز بنک میں بھی سرمایہ کاری کی۔ بارکلیز بنک میں سرمایہ کاری کےساتھ ان کا رشوت اسکینڈل بھی سامنے آچکا ہے۔

سعودی عرب سے مطالبات

سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم نے سعودی عرب کے خلاف کسی کو بات کرنے پراکسانے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اپنے تصرفات اور اقدامات خود تنقید کی وجہ بن جاتے ہیں۔ مسلسل تیسرے سال سے قطری عازمین حج کو سعودی عرب میں جانے سے روکا گیا ہے جب کہ ایرانی کےحج پر پابندی نہیں ہے۔ انٹرویو میں وہ قطری حکومت کی طرف سے اپنے شہریوں کی حج پرعاید کردہ پابندیوں کو نظراندز کرگئے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سعودی عرب نے قطری عازمین حج کو قطری سرکاری ایئرلائن کےسوا باقی تمام فضائی کمپنیوں کے ذریعے جدہ اور وہاں سےمکہ معظمہ آنے کی مکمل اجازت حاصل ہے۔

انہوں‌نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ریاض دوحہ کی میزبانی میں 2022ء میں ہونے والے فٹ‌بال کپ کی تیاریوں کو سبوتاژ کرنے میں سرگرم ہے مگر وہ اس حوالے سے سعودی عرب کےخلاف اپنے دعوے کےلیے کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔

ایک سوال کے جواب میں سابق قطری وزیراعظم نے سعودی عرب پرشام کی خانہ جنگی کے حوالے غفلت برتنے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ شام میں اسد رجیم کے خلاف سعودی عرب کی حمایت سےقائم ہونے والے اتحاد نے شام میں خانہ جنگی کی روم تھام اور پناہ گزینوں کے مسائل کے حل کے لیے کوئی کام نہیں‌ کیا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں حمد بن جاسم نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کےچھ رکن ملکوں‌بحرین، کویت، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طبیعی نوعیت کے متوازن تعلقات کا قیام ضروری ہے، مگر سعودی عرب کی وجہ سےیہ اتحاد اپنے اصل مقاصد حاصل نہیں‌ کرسکا۔

ایران کے ساتھ تعلقات کے قیام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حمد بن جاسم نے کہا کہ عرب ممالک کو ایران کے ساتھ دشمنی پالنے کی ضرورت نہیں۔ عرب ممالک کو خارجی دنیا تک پہنچنے کے لیے ایران کی بری، بحری اور فضائی حدود سے گذرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے کہنے پر دوسرے عرب ملکوں‌کو خود کشی نہیں کرنی چاہیے۔ ایران کے ساتھ متوازن تعلقات عرب ممالک کی ضرورت ہیں۔ جس طرح یورپی یونین کے رکن ممالک ایک دوسرے کےساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ اسی طرح عرب ممالک اور ایران کو اختلافات ختم کرنے آگے بڑھنا چاہیے۔