.

لبنان : مقامی باشندوں سے کشیدگی کے بعد شامی مہاجرین کا کیمپ سے زبردستی انخلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے مشرق میں واقع شامی مہاجرین کے ایک کیمپ کو حکام نے لڑائی کے بعد زبردستی خالی کرا لیا ہے۔کیمپ میں گذشتہ سات آٹھ برسوں سے مقیم شامی مہاجرین نے اپنے خیموں کو اکھاڑ دیا ہے اور وہ اپنے سامان ، برتنوں ، کپڑوں ،قالینوں کو ٹرکوں میں لاد کر کیمپ سے کسی اور منزل کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔

شام کے مشرقی قصبے دیر الاحمر میں واقع اس کیمپ میں مقیم شامی مہاجرین کی مقامی فائر فائٹروں سے دھینگا مشتی ہوئی تھی۔لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے شامی مہاجرین کو مقامی لوگوں کے انتقامی حملوں سے بچانے کے لیے کیمپ کو خالی کرانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ کیمپ پر دھاوا بولنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔

اس کیمپ میں قریباً چھے ہزار شامی مہاجرین مقیم تھے ۔ان کی لڑائی کے بعد کیمپ میں گذشتہ دو روز سے کرفیو نافذ ہے اور پولیس علاقے میں گشت کررہی ہے۔دیرالاحمر میں لبنانی بلدیہ کے افسر جین فخری نے کہا ہے کہ ’’کرفیو خونریزی کو روکنے اور شامی مہاجرین کے تحفظ کے لیے لگایا گیا تھا‘‘۔

واضح رہے کہ شام میں سنہ 2011ء میں خانہ جنگی چھڑنے کے بعد سے دس لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین لبنان میں مختلف کیمپوں یا پھر شہروں میں مقیم ہیں۔ان سے لبنان کی قرضوں کا شکار معیشت پر بھاری بوجھ پڑا ہے۔لبنان کی اپنی آبادی پچاس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور اس کا انفرااسٹرکچر اور معیشت بہ مشکل شامی مہاجرین کا بوجھ سہار رہے ہیں۔بہت سے لبنانی سیاست دان اور جماعتیں شامی مہاجرین کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے دیر الاحمر میں واقع اس مہاجر کیمپ میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا۔کیمپ سے اوپر پہاڑی پر اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔جب آگ بجھانے والا عملہ اس پر قابو پانے کے لیے وہاں پہنچا تو کیمپ کے مکینوں نے ان کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کردیا اور ان کا یہ کہنا تھا کہ عملہ تاخیر سے پہنچا ہے۔اس دوران ان میں دھینگا مشتی شروع ہوگئی جس میں ایک فائر فائٹر زخمی ہوگیا تھا۔

اس واقعے کی اطلاع پاکر لبنانی فوج وہاں پہنچ گئی اور اس نے تیس سے زیادہ شامی مہاجرین کو گرفتار کر لیا تھا۔پھر کیمپ کے مکین وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور نامعلوم حملہ آوروں نے تین خیموں کو آگ لگا دی تھی۔کشیدگی میں اضافے کے بعد لبنانی حکام نے کیمپ کو خالی کرنے کا حکم دے دیا تھا ۔

فخری کا کہنا تھا کہ ’’مقامی سطح پر غیظ وغضب کے جذبات اور بغاوت کے آثار پائے جارہے تھے ۔اس لیے ہم نے مزید مسائل اور خونریزی سے بچنے کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ کیمپ سے جانے والی مہاجرین کو واپس نہیں آنا چاہیے‘‘۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزین کے ادارے ( یو این ایچ سی آر)کے حکام کی موجودگی میں اتوار کو شامی مہاجرین کو اس کیمپ سے لبنان ہی کے ایک اور علاقے میں منتقل کیا جارہا تھا۔اس ایجنسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے بعد تما م ذمے داروں کے خلاف مقدمات چلائے جانے چاہییں۔

اس نے مزید کہا ہے کہ ’’ لبنان میں مقیم شامی مہاجرین کو اجتماعی سزا سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔کسی ایک واقعے کی بنا پر لبنان میں مقیم تمام مہاجرین کو نظامِ انصاف سے ماورا ہرگز بھی سزا نہیں دی جانا چاہیے ‘‘۔