.

سلامتی کونسل : یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی مکمل حمایت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات سلامتی کونسل کے آئندہ پریس ریلیز میں سامنے آئی ہے جس کی کاپی العربیہ نے حاصل کر لی۔

بیان میں کونسل کے ارکان نے تمام فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خصوصی ایلچی کے ساتھ رابطہ کاری جاری رکھیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سلامی کونسل کے ارکان الحدیدہ میں نئی صف بندی کے پہلے مرحلے کے نفاذ کی جانب متعلقہ فریقوں کی ابتدائی پیش رفت کو مثبت انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ ارکان نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اسٹاک ہوم معاہدے کو وسیع تر پیمانے پر لاگو کرنے کے لیے کام کرتے رہیں۔ ان میں الحدیدہ صوبے میں فائر بندی کا مکمل احترام اور پاسداری شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس کی معاون آج پیر کے روز سعودی دارالحکومت ریاض پہنچ رہی ہیں۔ وہ صدر عبدربہ منصور ہادی کے ساتھ یمن کی صورت حال اور گریفتھس کے ساتھ بحران پر بات چیت کریں گی۔

یمنی پارلیمنٹ نے اتوار کے روز ایک بار پھر آئینی حکومت کے مطالبے کو دہرایا جس میں کہا گیا ہے کہ جب تک اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن گریفتھس سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی پاسداری نہیں کرتے ،،، اس وقت تک اُن کے ساتھ رابطہ کاری اور معاملات کو روک دیا جائے۔

مارٹن گریفتھس کو ممکنہ طور پر آخری موقع دیا گیا تھا کہ وہ غیر جانب دار وساطت کار کے طور پر اپنا مشن جاری رکھیں۔

دوسری جانب یمن میں انسانی حقوق کی وزارت نے حوثی ملیشیا کی جانب سے تعز اور الضالع میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔ وزارت نے دونوں صوبوں میں باغیوں کی جانب سے مرتکب پامالیوں اور بھیانک جرائم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

یمنی وزارت کی جانب سے جاری بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی مسلسل دھجیاں بکھیرنا ،،، عالمی برداری کی خاموشی کا طبعی مظہر ہے۔ عالمی برادری شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے اپنی اخلاقی ذمے داریاں اور قانونی پاسداریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے اور حوثیوں کی جانب سے پامالیوں کا سلسلہ روکنے کے لیے زیادہ سخت اقدامات کرنے سے قاصر ہے۔