.

لبنانی وزیر خارجہ کی ٹویٹ پر سعودی چراغ پا ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسیل کی ایک حالیہ ٹویٹ نے سوشل میڈیا پر ردعمل کا طوفان برپا کر دیا۔ لبنان میں غیر ملکی لیبر کے حوالے سے اگرچہ یہ ٹویٹ ہفتے کے روز کی گئی تھی تاہم اس کے جواب میں اٹھنے والی تنقید کی آندھی اتوار اور پیر کی درمیانی شب تک نہیں تھم سکی۔

ٹویٹر پر اتوار کی شام لبنانی وزیر کو جواب دیتے ہوئے سعودی شہزادے عبدالرحمن بن مساعد نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ "لبنان میں سعودی لیبر کی بھرمار کا مسئلہ کافی بڑا ہے اور عزت مآب ذہین وزیر کے بیان پر ان کی ملامت نہیں کی جائے گی، مجھے اس میں کسی قسم کی نسل پرستی نظر نہیں آ رہی بلکہ یہ اپنی جگہ ایک دانش مندانہ بیان ہے۔ سعودیوں نے لبنانیوں کے روزگار میں مشکل پیدا کر دی جب کہ لبنان میں پہلا حق وہاں کے شہریوں کا ہے۔ بالخصوص جب کہ لبنان میں سعودی لیبر کی تعداد 2 لاکھ کے قریب ہو"۔

جبران باسیل کی ٹویٹ نے لبنان میں ایک اور تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ متعدد لبنانی شہریوں نے اپنی ٹویٹس میں باسیل کے بیان کو سعودی عرب کے لیے توہین آمیز شمار کیا ہے۔ وہ ہی مملکت سعودی عرب جہاں ہزاروں لبنانی رہ رہے ہیں۔

لبنانی وزیر خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ "یہ ایک نارمل بات ہے کہ ہم دیگر افرادی قوت کے مقابل لبنانی افرادی قوت کا دفاع کریں خواہ وہ شامی، فلسطینی، فرانسیسی، سعودی، ایرانی یا پھر امریکی ہوں، یقینا سب سے پہلے لبنانی ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ لبنانیت کے سرفہرست ہونے کا کیا مطلب ہے اور خون کے تعلق کا احساس کیا معنی رکھتا ہے"۔

باسیل کی ٹویٹ کو بہت سے لبنانیوں نے نسل پرستی پر مبنی اور غیر منطقی قرار دیا جب کہ سعودی شہری بھی لبنانی وزیر خارجہ کے موقف پر چراغ پا ہو گئے۔