.

بلوچستان میں 41 خواتین کی آبرو ریزی کےالزام میں چار ایرانی ملزموں کو سزائےموت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت زاھدان کی ایک عدالت نے 41 خواتین کی آبرو ریزی کے الزام میں گرفتار چار ملزمان کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔

زاھدان کے پراسیکیوٹر جنرل علی موحدی راد نے'میزان' نیوز ایجنسی کو بتایا کہ چار ملزمان کو سزائے موت 'ایرانشھر' میں خواتین کی آبرو ریزی کے جرم میں دی گئی۔ مقامی عدالت کے بعد سزا کی توثیق کے لیے کیس سپریم کورٹ کو بھیجا جائے گا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے منظوری کے بعد ملزمان کوبھرے مجمع میں سزا دی جائے گی۔

گذشتہ جمعہ کے روز بلوچستان میں ایک امام مسجد نے انکشاف کیا تھا کہ شہریوں جن میں خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی نے ایرانشھر کے گورنر ہائوس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین خواتین کی آبرو ریزی کے مرتکب مجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کررہےتھے۔ مظاہرین نے دعویٰ‌ کیا کہ درجنوں خواتین کی آبرو ریزی میں ملوث عناصر کو با اثر اور مقتدر لوگوں کی معاونت حاصل ہے جو انہیں بچانے کی کوشش کررہےہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق ایران میں خواتین کے ریپ میں‌ملوث گینگ کا انکشاف جون 2018ء میں اس وقت ہوا جب لوگ ایرانشھرمیں منظم گینگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ ایرانی وزیرداخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے اس واقعے کی فوری انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ یہ گروپ خواتین کی آبرو ریزی کے بعد انہیں سڑکوں پر پھینک دیتا تھا۔

گذشتہ برس سترہ جون کو ایرانشھر کی مسجد نورمدینہ کے سنی امام الشیخ محمد طیب ملازئی نے انکشاف کیا تھا کہ ایک منظم گینگ نے شہر کی 41 خواتین کی منظم آبرو ریزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گینگ خواتین کو اغواء‌ کے بعد جنسی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ انہوں‌نے انکشاف کیا کہ اغواء کار گینگ پولیس یا مسلح افواج کی وردی میں ملبوس پائے گئے ہیں۔ وہ خواتین کو بندوق کے زور پر اغواء‌کرکے نامعلوم مقام پر لے جاتے اورانہیں جنسی ہوس کا نشانہ بناتے۔