.

لبنانی شہری نزار زکا ایران سے رہائی کے بعد بیروت پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں امریکا کے لیے جاسوسی کے الزام میں قید لبنانی شہری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر نزار زکا رہا ئی کے بعد منگل کے روز بیروت پہنچ گئے ہیں ۔

انھوں نے بیروت میں اپنی آمد کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ کسی کے ایجنٹ نہیں ہیں اور انھیں ایران میں جھوٹے الزامات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔نیوز کانفرنس میں ان کے ساتھ لبنان کی جنرل سکیورٹی کے سربراہ عباس ابراہیم بھی موجود تھے ۔نزار زکا ان ہی کے ساتھ تہران سے طیارے کے ذریعے بیروت پہنچے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ میں ایک ملک میں سرکاری دعوت نامے پر گیا تھا لیکن وہاں مجھے اغوا کر لیا گیا تھا‘‘۔ایران کی خبررساں ایجنسی فارس نے سوموار کو یہ اطلاع دی تھی کہ ایرانی حکومت نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کی ثالثی اور درخواست پر نزار زکا کو رہا کرنے کا فیصلہ ہے۔‘‘ مگر لبنانی ذرائع کے مطابق ان کی رہائی حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔

نزار زکا کو سپاہِ پاسداران انقلاب ایران نے ریاست کے خلاف جاسوسی کے الزام میں 2015ء میں گرفتار کیا تھا۔انھیں ایران کی ایک عدالت نے جاسوسی کے الزام میں قصور وار قرار دے کر دس سال قید اور 42 لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

لبنان کی سرکاری خبررساں ایجنسی این این اے نے گذشتہ ہفتے وزارت خارجہ کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ ایران نے نزار زکا کو معافی دینے سے اتفاق کیا تھا۔ایجنسی نے نزار کے خاندان کے کے حوالے سے بتایا تھا کہ ان کی رہائی کے لیے کوشش کامیاب رہی ہے ۔انھوں نے لبنانی صدر میشیل عون اور وزیر خارجہ جبران باسیل کا شکریہ ادا کیا تھا۔

نزار زکا امریکا کے مستقل رہائشی تھے۔انھیں 2015ء میں ایران کے ایک سرکاری عہدہ دار نے ملک میں آنے کی دعوت دی تھی لیکن وہ تہران میں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد اچانک غائب ہوگئے تھے۔پھر اسی سال ایران کے سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع دی تھی کہ ان کے امریکی فوج اور انٹیلی جنس سروسز سے روابط تھے اور انھیں پاسداران انقلاب نے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔