.

ہاتھوں اور پائوں سے پیدائشی معذور سعودی بچہ مرجع خلائق بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں پیدائشی طور پر ہاتھوں اور پائوں سے معذور بچے نے اپنے چہرے کی مسکراہٹ سے معذوری کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ اپنے آس پاس موجود لوگوں کے دل موہ لیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق معذوری نے ننھے سعودی ریان المعدی کو لوگوں میں گھل مل جانے، ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور تعلیم کے حصول سے نہیں روکا۔ وہ تیراکی کا خواہش مند، آرٹسٹ کے طور پر خاکے بنانا اور معذور بچوں کے ساتھ کھیل کود میں حصہ لینا چاہتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ مستقبل میں بچوں کا ڈاکٹر بننے کے خواب بھی دیکھ رہاہے۔

معذور بچے ریان المعدی کی والدہ نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریان کی پیدائش سے قبل ہی مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ میں ایک معذوربچے کی ماں بننے والی ہوں۔ مگر مجھے اس میں‌کوئی پریشانی نہیں‌ تھی کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو جیسے چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ معذوربچہ گھر میں باعث برکت ہوگا۔ ڈاکٹروں کی طرف سے خبردار کیا گیا تھا کہ بچے کی معذوری کی وجہ سے اس کی پیدائش کا عمل بھی انتہائی پیچیدہ ہوگا مگر پیدائش کےدوران ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ نارمل طریقے سے پیدا ہوا اور اس کی پیدائش ہمارے لیے نیک شگون ثابت ہوئی۔ وہ جہاں جاتا ہے ہمیشہ مسکراتے چہرے کے ساتھ ہرایک سے ملتا ہے۔

والدہ کا کہنا ہے جب ریان المعدی بڑا ہونے لگا تو ایک دن اس نے مشکل سوال پوچھا کہ میں دوسرے لوگوں سے مختلف کیوں‌ ہوں؟ میں جوتے کیوں‌ نہیں‌ پہن سکتا اور بازو پرگھڑی کیوں نہیں باندھ سکتا۔ اگرچہ اس کا جواب مشکل تھا مگر میں‌ نے اس کے سوالوں‌کے جواب دیے اور اسے معذور افراد کی تصاویر دکھائیں جو اس کی طرح ہاتھوں اور پائوں سے محروم تھے۔معذور بچے کی ماں‌ کا کہنا ہے کہ ریان المعدی کی پیدائش کے پانچ سال بعد معذوروں کے لیےکام کرنے والی ایک تنظیم نے اسے اپنے ہاں رجسٹر کرلیا۔ تنظیم کی طرف سے اسے معاون ٹیم اور معلمات فراہم کی گئیں۔ آج وہ 10 سال کا ہوچکا ہے اور لوگوں‌کا مرجع خلائق ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کے فالورز ہزاروں میں ہیں جو مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

ریان کی حالت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شائد سعودی عرب میں یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے۔ سائنسدانوں نے بتایا تھا کہ جین میں پیدا ہونے والی ایک خامی بچے کی معذوری کا موجب بنی ہے۔ مجھے پیٹ میں بچے کی موجودگی کا علم تین ماہ کے بعد ہوا۔ مجھے ڈرتھا کہ بچہ پیدائش کےبعد جسمانی معذوری کے ساتھ گونگا، بہرہ اور نابینا نہ ہو۔ پیدائش کےفوری بعد ڈاکٹر اسے اپنے پاس لے گئے اور چار دن بعد مجھے واپس کیا گیا۔ریان المعدی کا قصہ مثبت انسانی عزم اور ارادے کا اظہار ہے۔ ڈاکٹروں نے اس کے بعض داخلی جسمانی حصوں کی سرجری بھی کی۔ جب اس سے اس کے ہاتھوں اور پائوں‌کی بات کی گئی تواس نے مسکرا کرجواب دیاکہ اس کے ہاتھ پائوں جنت میں ہیں۔ معذور ہونے کے باوجود ریان کی زندگی فطری انداز میں گذر رہی ہے۔

اپنے ملنے والوں کو اس نے کبھی اپنی معذوری کا احساس نہیں ہونے دیا۔ اس نےخوف کی دیوار توڑ دی، ہر ملنےوالےسے وہ خندہ پیشانی سے ملتا ہے اور مسکرا کر استقبال کرتا ہے۔ اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ ریان میرے ساتھ شاپنگ اور معذور بچوں کے اسکول میں جاتا ہے۔