.

ایرانی کارکنان کا خامنہ ای سے سبک دوشی کا اعلانیہ مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں 14 سیاسی اور شہری کارکنان نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے نام ایک کھلے خط میں اُن سے سبک دوش ہونے اور آئین کی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ایرانی سپریم لیڈر کے لیے اپنی نوعیت کا غیر معمولی چیلنج ہے۔

انگریزی ویب سائٹ "ایران انٹرنیشنل" کے مطابق ان کارکنان میں سے بعض نے وڈیو کلپس بھی پوسٹ کیے ہیں جن میں وہ اعلانیہ طور پر سپریم لیڈر کے رخصت ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس سے قبل مارچ میں تہران سے تعلق رکھنے والے ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی مطہری نے ایرانی انقلاب کے مستقبل پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ موجودہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای قیادت کے اہل نہیں ہیں۔ مطہری اپنے جرات مندانہ مواقف اور آراء کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر علمی اور معنوی صفات کی حامل کوئی نمایاں شخصیت موجود نہیں تو بہتر ہے کہ اجتماعی قیادت سرگرم ہو۔

یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو انقلاب کے بعد آئین کی تیاری سے اب تک مختلف نوعیت کی پیچیدگیوں کا سامنا رہا ہے۔ اس حوالے سے بیان کیا جانے والا ایک اہم امر "ولایتِ فقیہ" کا معاملہ ہے۔ بہت سے لوگ اسے سپریم لیڈر کے ہاتھوں میں موجود آمریت کا آلہ قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ 2017 میں ایرانی مجلس خبرگان رہبری کے ترجمان احمد خاتمی نے انکشاف کیا تھا کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جاں نشینی کے لیے امیدواروں کے انتخاب کے واسطے ایک خفیہ کمیٹی کا تقرر عمل میں آیا ہے۔ اس انکشاف نے اُس وقت خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے شکوک و شبہات کو تقویت دی تھی۔ خامنہ ای طویل عرصے سے غدودِ مثانہ کے سرطان میں مبتلا ہیں۔