.

أبها بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی باغیوں کی راکٹ باری، 26 مسافر زخمی

شہری املاک اور نہتے مسافروں پر حملے جنگی جرائم شمار کئے جاتے ہیں: عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت کی رٹ بحالی کے لئے سرگرم عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے شہر أبها میں بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بدھ کو علی الصباح ایک راکٹ حملہ کیا۔

حملے میں 26 افراد زخمی ہوئے۔ اس ہوائی اڈے سے روزانہ ہزاروں سعودی شہری، مملکت میں مختلف قومیتوں کے مقیم غیر ملکی شہری سفر کرتے ہیں۔ حملے کے بعد چند لمحوں کے لئے ائر ٹریفک بند رہی تاہم بعد میں ہوائی اڈا سے معمول کی پروازں کا سلسلہ بحال کر دیا گیا۔

ایک بیان میں کرنل ترکی المالکی نے بتایا ابھا ہوائی اڈے کے آمد ہال پر راکٹ کرنے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے کم سے کم 26 مسافر زخمی ہوئے۔ ان میں یمن، بھارت اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی تین خواتین، دو سعودی بچے شامل تھے۔ حملے میں آٹھ دوسرے مسافروں کو بھی درمیانے درجے کے زخم آئے جنہیں علاج کی غرض سے ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔ اٹھارہ زخمیوں کو موقع پر مرہم پٹی کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔ راکٹ حملے سے ہوائی اڈے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔

کرنل ترکی المالکی کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی اور فوجی حکام دہشت گرد حملے میں استعمال کئے جانے والے راکٹ کی نوعیت کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد نے اپنے ہم نوا ذرائع ابلاغ کے توسط سے دعوی کیا تھا کہ انھوں نے ابھا ہوائی اڈے پر ’’کروز‘‘ میزائل سے حملہ کیا ہے۔ یہ دعوی شہری تنصیبات اور عوام کو نشانہ بنانے سے متعلق حوثیوں کا صریح اعتراف ہے۔ یاد رہے جنگ کے دوران بھی عام شہریوں اور سول عمارتوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی شمار کیا جاتا ہے۔ عام شہریوں اور سول عمارتوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حوثی ملیشیا نے جدید طرز کا اسلحہ استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔ ایرانی حکومت سرحد پار دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں حوثیوں کی مکمل امداد کر رہی ہے جو بذات خود اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے منظور کی جانے والی قراردادوں (2216) اور (2231) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اپنے بیان کے اختتام میں کرنل ترکی المالکی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عرب اتحاد کی مشترکہ کمان حوثیوں کی دہشت گردانہ اور غیر اخلاقی کارروائیوں کا جلد اور ٹھوس جواب دے گی جو دہشت گرد ملیشیا کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دے گی۔ ہم اپنے شہریوں اور تارکین وطن کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دینے کے لئے بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق ان عناصر کا محاسبہ کرتے رہیں گے جو ایسے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔