.

اسرائیل نے غزہ میں ماہی گیروں پر مچھلیوں کے شکار پر پابندی عاید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے فلسطین کے علاقے غزہ کی بحری ناکہ بندی کرتے ہوئے غزہ کے ماہی گیروں کو سمندر میں مچھلیوں‌ کے شکار سےروک دیا ہے۔

صہیونی ریاست کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماہی گیروں پر پابندی غزہ کی سرحد سے اسرائیل پر پھینکے جانے والے آتش گیر گولوں اور گیسی غباروں پر جوابی کارروائی کے طورپرعمل میں لائی گئی ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی اراضی پر آتش گیر غباروں کے حملوں کے تسلسل میں ہم نے غزہ میں فلسطینی ماہی گیروں کو تا حکم ثانی سمندر میں مچھلیوں کے شکار سے روک دیا ہے۔

خیال رہے کہ منگل کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ سے آتش گیر غبارے پھینکے جانے کے بعد ماہی گیروں کو سمندر میں 6 ناٹیکل میل سے آگے مچھلیوں کے شکار کے لیے جانے سے روک دیا تھا۔ ایک ہفتے کے دوران یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ 10 سال سے غزہ کی فضائی، بحری اوربَری ناکہ بندی کررکھی ہے۔ سنہ 1993ء میں طے پائے 'اوسلو' معاہدے کے تحت فلسطینیوں کو 20 ناٹیکل میل تک سمندر میں مچھلیوں کے شکارکی اجازت دی گئی تھی مگراسرائیلی ریاست اس معاہدے پر کم ہی عمل درآمد کرتی ہے۔

ایک سال سے فلسطینی شہری غزہ کی پٹی پر اسرائیلی ریاست کی مسلط کردہ پابندیوں اور حق واپسی کے لیے احتجاج کررہےہیں۔ احتجاجی مظاہروں‌کے دوران فلسطینی مظاہرین غزہ کی سرحد سے اسرائیلی علاقوں میں آتش گیر مواد پھینکتے ہیں جس کےنتیجے میں اسرائیل کو زراعت کے شعبے میں غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے۔