.

حوثی جرائم کا ’شدت اور حوصلے‘ سے جواب دیا جائے گا: شہزادہ خالد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ یمن کی حوثی ملیشیا اخلاق وقانون کے دائروں سے نکل کر اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کا حملہ ایران کی طرف سے جارحیت میں اضافے کا ثبوت ہے۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے سلسلہ وار ٹویٹر پیغامات میں کہا ہے ’’کہ سعودی عرب کے مفادات اور اس کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کو معاف نہیں‌ کیا جائے گا بلکہ ان کے ساتھ سختی اور حوصلے کے ساتھ نمٹا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے جرائم قابل معافی نہیں ہیں۔ انہیں سعودی عرب پر حملوں کا حساب دینا ہو گا۔

سعودی نائب وزیر دفاع نے حوثیوں کے جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ دنیا کو حوثیوں کے خطرناک عزائم کی روک تھام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ ایرانی رجیم 40 سالسے خطے میں فساد پھیلا رہی ہے۔ خطے میں موت، افراتفری اور دہشت گردی ایرانی رجیم کی سازشوں کا نتیجہ ہے۔

شہزادہ خالد کا مزید کہنا تھا ’’کہ یمن کے حوثی دہشت گردوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں‌ برتی جائے گی بلکہ ان کے ساتھ حوصلے اور سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ سعودی عرب کے ابھا شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر راکٹ حملہ ایران کی خطے میں جارحیت میں اضافہ اور سعودی عرب کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی سازشوں کا حصہ ہے۔‘‘

خیال رہے کہ بدھ کے روز ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی ملیشیا نے راکٹوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم 26 مسافر زخمی ہو گئے تھے۔