.

انقرہ، روسی ساختہ S-400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری مکمل کر چکا: ترک صدر کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ’’ ان کا ملک روس سے S-400 طرز کا میزائل دفاعی سسٹم پہلے ہی خرید چکا ہے۔‘‘ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ میزائل دفاعی سسٹم جولائی میں ترکی کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد ترکی اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

طیب ایردوآن کے بہ قول ’’ ترکی S-400 طرز کا میزائل دفاعی سسٹم پہلے ہی خرید چکا ہے۔ یہ معاہدہ طے پا چکا ہے۔ مجھے امید ہے کہ S-400 سسٹم اگلے مہینے ہمارے ملک [ترکی] کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘‘

ترکی کی جانب S-400 طرز کے دفاعی میزائل سسٹم خریداری کے آڈر کے بعد واشنگٹن اور انقرہ کے ایک دوسرے پر کئی مہینوں سےکھلے عام تابڑ توڑ حملے جاری ہیں۔اس تنازع کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ S-400 دفاعی میزائل سسٹم نیٹو کے پاس موجود دفاع نظام سے مطابقت نہیں رکھتا۔

قائم مقام امریکی وزیر دفاع پیٹرک شینا ہان نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ اگر انقرہ S-400 طرز کے دفاعی میزائل سسٹم خریداری سے باز نہیں آتا تو اسے امریکی ساختہ F-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنےکے پروگرام سے باہر نکال دیا جائے گا۔

اپنی جماعت ’’آق‘‘ کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے رجب ایردوآن نے کہا: ’’ترکی کو F-35 لڑاکا طیاروں کی خریداری پروگرام سے محروم کرنے والوں کا محاسبہ کیا جائے گا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ’’ ترکی F-35 لڑاکا طیاروں کے تیاری پروگرام کا اہم شریک ہے ۔ انقرہ کو اس پروگرام سے غیر قانونی اور بغیر کسی وجہ کے نکالنے والوں کا ہر پلیٹ فارم پر محاسبہ ہوگا۔‘‘

ایردوآن کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ رواں مہینے کے اختتام پر جاپان کے شہر اوساکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے امریکا سے اس معاملے پر ٹیلی فون پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

منگل کے روز روس نے اعلان کیا تھا کہ’’ S-400s دفاعی میزائل سسٹم جولائی کے اواخر تک ترکی کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘‘ ترکی اگر S-400s دفاعی سسٹم کی خریداری سے باز نہیں آتا تو روسی بیان کے بعد انقرہ کے خلاف امریکی پابندیوں کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے۔