.

خلیج عمان میں دو تیل بردار ٹینکروں پر حملے، لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس !

نارویجین اخبار: فرنٹ لائن کمپنی کا فرنٹ الٹیر جہاز خیلج عمان میں آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی بحریہ کے مطابق اومان کی سمندری حدود میں پیش آنے والے واقعہ کے نتیجے دو تیل بردار جہازوں کو نقصان پہنچا ہے اور وہ متاثرہ جہازوں کی مدد میں مصروف ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ خلیج اومان میں حملے کا شکار بننے والا ’فرنٹ الٹیر‘ نامی ایک جہاز ڈوب گیا ہے جبکہ ناروے کے ایک اخبار نے ’فرنٹ الٹیر‘ کی ملکیتی کمپنی ’فرنٹ لائن‘ کے حوالے سے بتایا کہ جہاز میں حملے کے بعد آگ لگی ہوئی ہے، تاہم تیل بردار ٹینکرسمندر برد ہونے سے متعلق اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

اس وضاحت کے بعد ایرانی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے ایرانی بندرگاہ پر تعینات ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ’فرنٹ الٹیر‘ کے ڈوبنے سے متعلق اطلاعات درست نہیں۔

پانچویں امریکی بحری بیڑے کے کپتان نے بتایا کہ متاثرہ جہازوں کی مدد کے لئے بحریہ کو روانہ کر دیا گیا ہے کیونکہ ’’ہمیں تیل بردارجہازوں کے کپتانوں کی طرف سے مدد کے لئے دو الگ الگ پیغام موصول ہوئے تھے۔‘‘ ’فرنٹ الٹیر‘ کی ملکیتی کمپنی کا کہنا تھا کہ ان کے جہاز کو تین گھنٹوں کے دوران دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔

اسی حوالے سے جاپانی وزیر تجارت کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ ’’ہمیں اطلاع ملی ہے کہ دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز کے قریب نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان جہازوں پر جس کارگو کی نقل وحمل کی جا رہی تھی، اس کا جاپان سے تعلق بتایا گیا ہے۔‘‘ جاپانی کارگو کمپنی ’’کوکوکا سانجیو‘‘ کا کہنا ہے کہ ان کے جس جہاز پر حملہ کیا گیا وہ کیمیائی مواد لے کر جا رہا تھا۔

جہاز رانی سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز خلیج اومان میں دو تیل بردار جہازوں پر مشتبہ حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ذرائع کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے جہازوں سے عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ ایک ماہ قبل خطے میں ایسے ہی حملوں میں چار تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

برطانوی بحریہ کے زیر انتظام یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے حملے سے متعلق انتباہ جاری کر دیا ہے، تاہم اس حملے کی تفصیل ابھی فراہم کی گئی کیونکہ حکام تفتیش کر رہے ہیں۔

بحرین میں تعینات پانچویں امریکی بحری فلیٹ کے ترجمان کمانڈر جوشوا فرے نے بتایا کہ فلیٹ کی کمان خطے میں رونما ہونے والے مبینہ واقعے سے آگاہ ہے، تاہم انھوں نے تفصیل بتانے سے گریز کیا۔ امریکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے مسٹر فرے کا کہنا تھا کہ ’’ہم تفصیلات حاصل کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔‘‘

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’’رائیٹرز‘‘ کے مطابق پانچویں امریکی بحری فلیٹ کو اومان کی سمندری حدود میں حملے کا نشانہ بننے والے دو جہازوں کی جانب سے پریشانی میں مدد کی درخواست موصول ہوئی۔ ایجنسی کے مطابق علاقے میں موجود امریکی بحری جہاز متاثرہ ٹینکروں کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔

مذکورہ ٹینکروں کو جس جگہ نشانہ بنایا گیا ہے وہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔ اس مقام سے مشرق وسطیٰ سے دنیا کو تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی پانچ فیصد پیداوار گذر کر عالمی منڈیوں تک جاتی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کی ویب سائٹ نے ایران نواز لبنانی سیٹلایٹ ٹی وی ’’المیادین‘‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ خلیج اومان میں دو تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ چینل نے اپنے دعوی کے ثبوت کے طور پر کوئی شہادت پیش نہیں کی۔ برطانوی گروپ کے مطابق تیل بردار جہازوں کو ایرانی ساحل سے 45 کلومیٹر دور نشانہ بنایا گیا۔

نقل وحمل کی تجارت سے متعلق جریدے ’’ٹریڈ ونڈز‘‘ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ناروے کی ’فرنٹ لائن‘ کمپنی کے ملکیتی جہاز کو متحدہ عرب امارات کے علاقے الفجیرہ کے ساحل سے دور ٹارپیڈو سے نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق حملے کے شکار ’فرنٹ الٹیر‘ نامی تیل برادر جہاز پر جزائر مارشل کا پرچم لہرا رہا تھا جبکہ رائیٹرز کے مطابق پاناما سے تعلق رکھنے والے دوسرے تیل بردار ٹینکر کی شناخت ’کوکوکا کیرجز‘ کے نام سے ہوئی ہے۔

رائیٹرز نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے ’کوکوکا کیرجز‘ کے کپتان اور عملے کو ریسکیو کشتیوں کے ذریعے جلتے جہاز سے نکال لیا گیا ہے۔ بحری جہاز آخری اطلاعات آنے تک خلیج اومان میں سمندر برد نہیں ہوا تھا۔

دوسری جانب ایران نے اومانی سمندر میں پیش آنے والے حادثے کے بعد 44 سیلرز کو بحفاظت نکال کر بندر جاسک نامی پورٹ پر پہنچا دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’کوکوکا کیرجز‘ سعودی عرب کے علاقے الجبیل سے سنگاپور میتھانول کارگو لے کر جا رہا تھا۔ جہاز پر لادا میتھانول کارگو محفوظ ہے۔