.

خلیج میں تیل بردار جہازوں پر حملوں میں ایران کا ہاتھ ہے: امریکی سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارکو روبیو نے الزام عائد کیا ہے کہ بحرِ عُمان میں دو تیل بردار جہازوں کو دھماکوں سے نشانہ بنانے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔

روبیو نے مذکورہ حملے کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کی خبر کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ "اس طرح کی میڈیا رپورٹوں کا دعوی ہے کہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ خلیج میں ان حملوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ... اس بنیاد پر ایران کا خیال ہے کہ وہ معاملے سے غائب ہو جائے گا"۔

امریکی سینیٹر نے سوال کیا کہ "اگر یہ کام ایران کا نہیں تو پھر یہ کس نے کیا ہے؟".

اس کے بعد وہ خود ہی جواب دیتے ہیں کہ "ایرانی پاسداران انقلاب اس دائرہ کار میں وہ واحد وجود ہے جو اس کام کی قدرت رکھتا ہے"۔

روبیو نے ایک دوسری ٹویٹ میں سعودی عرب کے شہر ابہا میں ہوائی اڈے پر یمنی باغیوں کے حملے کا ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ "مملکت سعودی عرب میں ایک شہری ہوائی اڈے کو حوثیوں نے کروز میزائلوں کے ذریعے حملے کا نشانہ بنایا جو انہیں ایرانی پاسداران انقلاب نے فراہم کیے ہیں۔ اس حوالے سے ایران کو بھی ملامت کا نشانہ بنایا جانا چاہیے"۔

ایک اور ٹویٹ میں روبیو نے توقع ظاہر کی کہ "ایرانی پاسداران انقلاب دیگر مقامات کی تلاش میں ہیں جو انہیں امریکی مفادات پر ایسے طریقے سے حملے کا موقع فراہم کریں جس سے تہران کو شام، عراق اور یہاں تک کہ افغانستان میں بھی اعتماد حاصل ہو جائے"۔

امریکی سینیٹر نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے بیان کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کی خبر کو ری ٹویٹ کیا۔ پومپیو نے اس بیان میں کہا تھا کہ انٹیلی جنس شواہد اس بات کا پتہ دے رہے ہیں کہ تیل بردار جہازوں پر دونوں دھماکوں میں ایران ملوث ہے۔

روبیو نے خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "صرف انٹیلی جنس معلومات یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ خلیج میں ہونے والے حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے بلکہ یہ ایک عام فہم بات ہے"۔