.

قطر براہ راست القاعدہ تنظیم کے ساتھ رابطے میں تھا: ترکی الفیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی جنرل انٹیلی جنس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل بن عبدالعزيز آل سعود نے القاعدہ تنظیم کے قطر اور ایران کے ساتھ رابطوں پر روشنی ڈالی ہے۔

جمعے کی شام العربیہ نیوز چینل پر نشر ہونے والے پروگرام "الذاكرہ السياسيہ" میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں ایران اور قطر کے "القاعدہ" اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مشترکہ کردار کا بھی ذکر کیا۔

ترکی الفیصل نے انکشاف کیا کہ اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کے بعض افراد کے ایران میں پناہ لینے کے بعد القاعدہ کے بانی نے اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

انہوں نے باور کرایا کہ مملکت سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لیے ایران اور القاعدہ کے بیچ موافقت ہو گئی تھی۔

سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ کے مطابق القاعدہ کے لیے ایرانی سپورٹ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سامنے آئی۔

ترکی الفیصل کے مطابق قطر القاعدہ تنظیم کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ قطر نے القاعدہ کو مادی اور لوجسٹک سپورٹ فراہم کی اور اس کے ارکان کو پناہ دی۔

القاعدہ کے لیے قطری سپورٹ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ترکی الفیصل نے کہا کہ قطر بین الاقوامی منظر نامے پر تنظیم کے کردار کے لیے کوشاں تھا۔

ترکی الفیصل کے مطابق قطر نے شام میں النصرہ فرنٹ اور دیگر تنظیموں کو اور یمن میں حوثیوں کو سپورٹ فراہم کی۔ اس دوران ہم نے قطر کے بحرین، یمن اور شمالی افریقا کے ممالک میں حکومت مخالف تظیموں کے ساتھ رابطوں کا پتہ چلایا۔

سعودی شہزادے نے عرب ممالک بالخصوص شام اور عراق میں ایرانی کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ "ایران نے شام میں انقلاب سے فائدہ اٹھایا اور شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد کی نصرت کے نام پر شام میں مداخلت کو یقینی بنا لیا۔ اسی طرح ایران نے عراق پر امریکی حملے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عراق میں اپنے نفوذ کو پھیلایا"۔

ترکی الفیصل کے مطابق فرانس میں ایرانی اپوزیشن کی کانفرنس میں شرکت کے بعد انہیں ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے انتباہ موصول ہوا تھا۔

سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ نے باور کرایا کہ مملکت نے کبھی کسی دوسری ریاست کے معاملات میں مداخلت نہیں کی۔

ترکی الفیصل نے واضح کیا کہ انہیں کبھی قاتلانہ حملے کا نشانہ نہیں بنایا گیا اور انہیں اس حوالے سے کسی منصوبہ بندی کی معلومات موصول نہیں ہوئیں۔