.

امریکا کا حزب اللہ اور اس کے تمام حامیوں کے لیے طاقت ور پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انتظامیہ ابھی تک لبنان کے ساتھ ایران کے حوالے سے اپنی جامع پالیسی کے زاویے سے پیش آ رہی ہے۔ حزب اللہ کی موجودگی کے پیش نظر لبنان کی خود مختار پوزیشن نہیں ہے۔ بہرکیف لبنان ہر صورت تہران سے بغداد اور دمشق تک پھیلے ہوئے راستے کا اختتام ہے جو بیروت اور بحیرہ روم تک پہنچ رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کے نزدیک ایران اور حزب اللہ پر پابندیوں کے بڑے اثرات مرتب ہوئے۔ اسی واسطے امریکیوں کی جانب سے لبنانی فریقوں کے اقدامات کا قریب سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وہ اس امر کی تصدیق چاہتے ہیں کہ حزب اللہ کے گرد گھیرا تنگ ہے اور وہ لبنانی ریاست سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔

امریکی انتظامیہ کے ایک ذمے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو باور کرایا کہ واشنگٹن نے ہر موقع پر اس معاملے میں سخت گیر موقف کا اظہار کیا ہے۔ چند ہفتے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بیروت کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے لبنانی فریقوں کو واضح طور پر آگاہ کر دیا تھا کہ حزب اللہ کی جانب معاونت کا ہاتھ بڑھانے والے کسی بھی شخص یا فریق کے خلاف سخت پابندیوں کا "میکانزم" حرکت میں آئے گا۔

امریکیوں کی جانب سے حزب اللہ کے آئندہ اقدام کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ امریکی پابندیوں کے خوف سے بہت سے فریقوں نے حزب اللہ کے ساتھ اپنے مالی تعلقات منقطع کر لیے۔ امریکیوں کو توقع ہے کہ حزب اللہ کھلے طور پر لبنانی ریاست کے خزانے سے فائدہ اٹھائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ امریکیوں نے لبنانی فوج کے کمانڈر کو آگاہ کیا کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے بیچ کسی بھی مقابلے کا معنی محض فریقین کے درمیان مقابلہ ہو گا ،،، اور اس دوران لبنانی فوج کو حزب اللہ کی سپورٹ میں نہیں پڑنا چاہیے۔

لبنانی فوج کے کمانڈر جوزف عون کے واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکیوں نے انہیں آگاہ کر دیا تھا کہ امریکا اپنی "حلیف" فوج سے یہ چاہتا ہے کہ وہ لبنانی شامی سرحد پر اسمگلنگ بند کرنے کے واسطے زیادہ بڑے اقدامات کرے۔ اس کے علاوہ لبنانی فوج جنوب میں بالخصوص حزب اللہ کی کھودی گئی سرنگوں کے سامنے آنے کے بعد اپنے اختیارات کو مضبوط بنائے۔

امریکیوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ لبنانیوں کو یہ آگاہ کیا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ کسی بھی عسکری مقابلے میں واشنگٹن اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی بیروت میں اپنے لبنانی ہم منصب جبران باسیل کے ساتھ بات چیت میں واشنگٹن کی چاہت کے حوالے سے اہم پیغام دیا گیا۔ امریکیوں کے نزدیک اس سلسلے میں لبنانی وزیراعظم سعد الدین حریری کے مواقف میں سست روی کا عنصر عیاں ہے۔ لبنان میں سنیوں کی بڑی اکثریت کے علاوہ مسیحیوں اور دروز کا ایک بڑا حصہ حزب اللہ سے عداوت رکھتا ہے۔ امریکیوں کو انتظار ہے کہ حزب اللہ کے حامیوں کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ حزب اللہ لبنان کے لیے خطرہ ہے اور اس کی سپورٹ کو روکنا لازم ہے۔

امریکیوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو باور کرایا ہے کہ مشرق وسطی کے لیے امریکی سفیر ڈیوڈ سیٹر فیلڈ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے پھوٹ پڑنے کو روکنے کے واسطے کوشاں ہیں۔ اس کے علاوہ وہ زمینی سرحدوں کی حد بندی کے حوالے سے حل تلاش کرنے کی بھی کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ حزب اللہ ، شام اور اسرائیل تینوں کے ساتھ متعلق ہے۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار نے لبنانی شہری نزار زکا کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں مذکورہ ذمے دار نے اس جانب اشارہ نہیں کیا کہ ایرانی جیلوں میں رہنے والا یہ لبنانی شہری امریکا میں مستقل قیام رکھتا ہے۔ امریکی ذمے دار کے مطابق نزار کو چار سال قبل ایران میں غیر منصفانہ طور پر گرفتار کیا گیا۔ اسے بدنام زمانہ ایفین جیل میں سخت ترین حالات کا سامنا رہا۔ امریکی ذمے دار نے لبنانی شہری کی رہائی کے سلسلے میں ایرانی حکام کے سامنے پُر زور کوششوں پر لبنانی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ ان کوششوں میں صدر میشیل عون اور وزیر خارجہ جبران باسیل سرفہرست ہیں۔