.

بھارتی لوک سبھا کے 40 فیصد سے زائد ارکان کوفوجداری مقدمات کا سامنا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے حالیہ قومی انتخابات نے وزیر اعظم نریندرا مودی کی قوم پرست جماعت کو تاریخی کامیابی دلوانے کے ساتھ دنیا کی اس بڑی جمہوریت میں روپے پیسے ، طاقت کے استعمال سمیت محل نظر اخلاقی معیار کا پردہ بھی چاک کر دیا ہے۔

پیر کے روز پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے منعقد ہونے والے اجلاس میں شریک 43 فیصد منتخب ارکان نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کے باوجودا لیکشن میں کامیابی حاصل کی۔ انجمن برائے جمہوری اصلاحات نامی شہری تنظیم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ان ارکان کی ایک تہائی تعداد عصمت دری، قتل یا اقدام قتل کے مقدمات میں مطلوب ہے۔

بھارتی عدالتوں میں گذشتہ ایک دہائی سے30 ملین مقدمات زیر سماعت ہیں ، جس کی وجہ سے سیاستدانوں کے خلاف زیر التوا مقدمات کا جلد فیصلہ نہیں ہو پاتا اور قانون کی روشنی میں جرم ثابت ہونےتک ہر شخص بے گناہ سمجھاجاتا ہے۔ اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر مقدمات کا سامنا کرنے والے سیاستدان بھی الیکشن لڑ نےمیں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ زیر التوا مقدمات سے متعلق سوال کے جواب میں ان سیاستدانوں کے پاس گھڑا گھڑایا جواب یہ ہوتا ہے کہ ’’مقدمے ان کے سیاسی حریفوں نے درج کرائے ہیں۔‘‘

سرکردہ سیاسی جماعتوں کے بقول حریف ایک دوسرے پر جھوٹی الزام تراشی کرتے رہتے ہیں اس لیے کسی عدالت سے باقاعدہ سزا کے بغیر لوگوں کو انتخاب لڑنے سے روکنا غیر منصفانہ بات لگتی ہے۔ موجودہ قانون کے مطابق دو یا دو سالوں سے زیادہ مدت کی سزائے قید پانے والوں کو انتخاب لڑنے سے روکا جا سکتا ہے۔

مجرمانہ پس منظر رکھنے والے سیاستدانوں کا بھارت میں رکن پارلیمنٹ ہونا نئیبات نہیں۔ مودی نے 2014 کی انتخابی مہم میں سیاست سے بدعنوانی اورروپے پیسے کا استعمال ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن صورتحال اس کے بعد خراب ہوتی چلی گئی۔

سابق الیکشن کمشنر شہاب الدین یعقوب قریشی کے مطابق 2004 کے انتخابات میں24 فیصد امیدوار ایسے تھے کہ جن کے خلاف فوجداری مقدمات زیر سماعت تھے، 2009 میں بڑھ کر یہ شرح 33 فیصد ہو گئی ، 2014 میں یہ تعداد 34 فیصد رہی جبکہ رواں برس یہ تعداد 43 فیصد تک جا پہنچی۔

انجمن برائے جمہوری اصلاحات کے مطابق مودی کی بھارتی جنتا پارٹی کے گذشتہ ماہ منتخب ہونے والے 303 ارکان میں سے 116کو دہشت گردی سمیت متعدد فوجداری مقدمات کا سامنا ہے۔