.

ایران میں خامنہ ای کے جانشین کے تقرر کے طریقہ کار پراختلافات شدت اختیار کرگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی خبر گان کونسل کےارکان میں اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب اور طریقہ انتخاب کےحوالے سے اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کرگئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق خبر گان کونسل کےارکان میں خامنہ ای کے جانشین کی نامزدگی اور امیدواروں کے ناموں کے اعلانات کے طریقہ کار پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

خبر گان کونسل کے ایک سینیر رکن ھاشم ھشمزادہ ھریسی نے اتوار کوایک بیان میں‌ کہا کہ مرشد اعلیٰ کے جانشین کے لیے امیدواروں کی خفیہ فہرست قبول نہیں کی جائے گی بلکہ جانشینی کا معاملہ کھلے عام زیربحث لایا جائے۔

ہاشم ہریسی کے بیان کے برخلاف کونسل کے ایک دوسرے رکن محسن اراکی کا کہنا تھا کہ کونسل کی ایک ذیلی کمیٹی نے خامنہ ای کے جانشین کے لیے ایک خفیہ فہرست 100 فی صد مکمل تیار کرلی ہے۔ یہ فہرست خامنہ ای کی اپنی نگرانی میں تیار کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے 'ارنا' کے مطابق ھریسی کا کہنا ہے کہ اعلانیہ فہرست خود خامنہ ای کےعہد میں بھی رائج اور قانونی طورپر موجود رہی ہے۔ ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کے لیے کسی خاص کمیٹی کے ذریعے کارروائی کے بجائے اعلانیہ چنائو کیا جانا چاہیے۔

خبر رساں ایجنسی'فارس' کو دیے گئےانٹرویو میں محسن اراکی کا کہنا تھا کہ خبر گان کونسل کے صرف تین ارکان نے خفیہ طورپر خامنہ ای کے جانشین کے لیے مجوزہ امیدواروں کی فہرست تیار کی ہے۔ ضرورت پڑنے پر یہ فہرست کونسل کےتمام ارکان کے سامنے پیش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی خرابی صحت کے بعد ان کے جانشین کے تقرر کی باتیں گذشتہ کئی سال سے جاری ہیں۔ خامنہ جو اس وقت عمر رسیدہ ہونے کےساتھ ساتھ پروسٹیٹ کینسر کا بھی شکار ہیں کسی بھی وقت داعی اجل کو لبیک کہہ سکتے ہیں۔ ایرانی مقتدر حلقوں میں یہ خدشہ بھی موجود ہےکہ اگر خامنہ ای کی زندگی میں ان کے جانشین کا تقرر نہ ہوسکا تو ان کی وفات کے بعد قیادت کا خلاء پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر خامنہ ای کی زندگی میں ان کا جانشین مقرر نہ ہوا تو ایران ایک نئے خلفشار کا شکار ہوگا اور عوام حکومت کےخلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔