.

ہم اپنے نام سے تیل کی کوئی کھیپ برآمد نہیں کر سکتے : ایران کا اقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائس آف امریکا کی انگریزی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے داخلی اعداد و شمار سے تصدیق ہوتی ہے کہ ملک کی معیشت کی کساد بازاری گذشتہ برس توقعات سے تجاوز کر گئی۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے تسلیم کیا ہے کہ اس کی معیشت کو گذشتہ برس بدترین کساد بازاری کا سامنا رہا۔ اس صورت حال کا آغاز ایک سال قبل ایران کے تیل اور مالیاتی سیکٹروں پر امریکی پابندیوں کے دوبارہ عائد کیے جانے کے بعد ہوا۔

ایران میں قومی مرکز برائے شماریات نے اتوار کے روز جاری رپورٹ میں بتایا کہ 21 مارچ سے شروع ہونے والے ایرانی سال میں مجموعی مقامی پیداوار میں 4.9% کی کمی آئی۔

اس سے قبل رواں ماہ عالمی بینک نے اعلان کیا تھا کہ 2018 میں ایران کی مجموعی مقامی پیداوار میں 1.9% کی کمی آئی جب کہ 2017 میں اس میں 3.8% کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اسی طرح بین الاقوامی مالیاتی فنڈ IMF نے رواں سال اپریل میں تصدیق کی تھی کہ 2018 میں ایران کی مجموعی مقامی پیداوار میں 3.9% کی کمی آئی۔

عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اندازے کے مطابق رواں سال ایرانی معیشت میں مندی کا تناسب 4.5% سے 6% تک رہے گا۔

دوسری جانب ایران کے وزیر تیل بیژن زنگنہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے لیے ممکن نہیں رہا کہ وہ اپنے نام سے تیل کی کوئی بھی مقدار فروخت کر سکے۔ بدھ کے روز ایرانی صنعتی انتظامیہ کے ایک ایونٹ سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ ملکی صورت حال عراق ایران جنگ (1980-1988) کے وقت سے زیادہ بری ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ISNA کے مطابق تیل کی فروخت، تجارتی تبادلے اور غیر ملکی کرنسی کی ترسیل کے حوالے سے صورت حال بہت دشوار ہے تاہم اگر داخلی معاملات حل ہو جائیں تو خارجی اور بین الاقوامی قضیے بھی حل ہو جائیں گے۔

مبصرین کے نزدیک ایرانی وزیر نے بالواسطہ طور پر ضخیم اداروں کی متوازی معیشت کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ان اداراوں میں سرفہرست پاسداران انقلاب ہے جو کسی طرح کی شفافیت اور حکومتی نگرانی کے تحت نہیں۔

امریکا نے رواں سال مئی کے آغاز پر ایرانی تیل درآمد کرنے والے ممالک کو دی گئی چھوٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واشنگٹن پہلے ہی یہ اعلان کر چکا ہے کہ امریکا مذکورہ استثنا میں توسیع نہیں کرے گا۔

واشنگٹن کے مطابق اس کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر روک دینا یا صفر تک لانا ہے تا کہ تہران کو اس کی آمدنی کے مرکزی ذریعے سے محروم کیا جا سکے۔

امریکی دباؤ کے سبب ایران کی معیشت ڈھیر ہو چکی ہے۔ گذشتہ برس مئی کے بعد سے ایران کی تیل کی برآمدات تقریبا 53% کم ہو کر یومیہ 13 لاکھ بیرل تک آ گئی ہے۔ معلوم رہے کہ تہران صرف ان ممالک کو تیل برآمد کر رہا ہے جنہیں واشنگٹن نے استثنا دیا تھا۔

ایرانی وزیر تیل بیژن زنگنہ نے 23 اپریل کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایرانی تیل کو صفر تک لانے کے اقدامات واشنگٹن کی جانب سے ان کے ملک کے خلاف جنگ ہے۔ تاہم ایرانی وزیر نے تیل کی برآمدات صفر تک لانے کو ایک خواب قرار دیا۔

اوپیک کی رپورٹ کے مطابق امریکی استثنا ختم کیے جانے سے قبل ایران یومیہ 27 لاکھ بیرل تیل پیدا کر رہا تھا جب کہ 2018 کے دوران یومیہ پیداوار کا حجم 35.5 لاکھ بیرل تھا۔ ایران نے 21 مارچ 2019 کو شروع ہونے والے اپنے مالی سال کے دوران یومیہ 15 لاکھ بیرل تیل برآمد کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔