.

القاعدہ کی فنڈنگ کرنے والا قطری اب بھی اپنی رقوم سے فائدہ اٹھا رہا ہے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے انکشاف کیا ہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے القاعدہ اور داعش تنظیموں کے دہشت گردوں اور ان کی سپورٹ کرنے والے بلیک لسٹ افراد پر عائد پابندیاں عائد کرنے کے اقدامات میں خامیاں موجود ہیں۔ یہ خامیاں اقوام متحدہ کی جانب سے مالی اثاثوں کے منجمد کرنے کے فیصلے کے باوجود ان افراد کو اپنے بینک کھاتوں سے استفادے میں مدد گار ثابت ہو رہی ہیں۔

امریکی اخبار کی جانب سے پیش کی جانے والی دستاویزات کے مطابق پابندیوں کے تحت آنے والی متعدد افراد اپنی مالی رقوم تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان افراد میں قطری شہری خلیفہ السبیعی شامل ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے القاعدہ تنظیم کے نمایاں رہ نماؤں کو مالی سپورٹ پیش کرتا رہا ہے جن میں خالد شیخ محمد سرفہرست ہے۔

السبیعی کا نام 2008 میں دہشت گردی سے متعلق اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ نے اس وقت سے السبیعی کو اجازت دے رکھی تھی کہ وہ بنیادی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے اپنے منجمد کھاتوں سے ماہانہ 10 ہزار ڈالر تک لے سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق سلامتی کونسل نے 2008 سے 2018 کے درمیان بلیک لسٹ میں شامل افراد کی جانب سے اپنے بینک کھاتوں تک رسائی کے لیے پیش کی جانے والی 72 میں سے 71 درخواستوں کو منظور کیا۔

سلامتی کونسل نے القاعدہ اور داعش تنظیموں کے ارکان اور ان کے سپورٹروں کے طور پر 250 سے زیادہ افراد کا نام درج کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل افراد کو کسی طور بھی فنڈنگ کے حصول کا امکان نہیں تاہم زندگی کی بنیادی ضروریات پورا کرنے کے واسطے ان افراد کے اصل ممالک اقوام متحدہ کو درخواستیں پیش کرتے ہیں کہ ان افراد کو چھوٹی رقم نکالنے کے سلسلے میں چھوٹ دی جائے۔

اقوام متحدہ کے بعض ذمے داران کا کہنا ہے کہ رکن ممالک بلیک لسٹ میں شامل دہشت گردوں کی مطلوبہ حد تک نگرانی نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ممالک اس بات کو یقینی بنانے میں ناکام ہو گئے ہیں کہ بلیک لسٹ افراد فنڈنگ حاصل نہ کر سکیں۔

اقوام متحدہ کے ذمے داران کے مطابق چھوٹ اور استثنا کی منظوری کے اقدامات بڑی حد تک کڑی نگرانی کو مضبوط بنانے سے قاصر ہیں۔ درحقیقت کسی بھی شخص کی جانب سے چھوٹ کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے۔ اسی طرح بعض مرتبہ بنا کسی جواز کے بڑی رقوم کی منظوری بھی دے دی جاتی ہے۔ بہت سی درخواستوں میں درخواست کنندگان کی ضروریات کی تفصیلات شامل نہیں ہوتی ہیں۔

منجمد رقوم تک رسائی کی منظوری سے متعلق سلامتی کونسل کا فیصلہ خفیہ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے بلیک لسٹ میں شامل شخص کی شناخت اور منظور کی جانے والی رقم کا تعین نہیں کیا جاتا۔

تاہم قطر کے مرکزی بینک کے سابق عہدے دار خلیفہ السبیعی کے کیس میں معاملہ مختلف رہا۔ اس کیس کو اقوام متحدہ میں اعلانیہ طور پر زیر بحث لایا گیا کیوں کہ السبیعی نے کم از کم 2013 کے دوران تک دہشت گرد سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔

وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے پیش کیے جانے والے ڈیٹا بینک کے جائزے میں السبیعی کے ذاتی کھاتے کو ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ معلومات قطر نیشنل بینک سے افشا ہوئیں جو یہ اقرار کر چکا ہے کہ 2016 میں نامعلوم ہیکرز نے اس کے نظام کو ہیک کر لیا تھا۔

قطر نیشنل بینک اور واشنگٹن میں قطر کے سفارت خانے کے ترجمان نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والے ایک شخص کا بینک اکاؤنٹ ابھی تک سرگرم کیوں ہے۔ تاہم دوحہ میں قطری ذمے داران کا کہنا ہے کہ السبیعی کے کھاتے سے رقم نکالے جانے کی منظوری اقوام متحدہ سے لی گئی تھی۔ السبیعی کے تمام بینک کھاتوں کو 2008 میں منجمد کر دیا گیا تھا۔

خلیجی ممالک نے یہ شکایت پیش کی ہے کہ قطر کی جانب سے اقوام متحدہ کی عائد کردہ پابندیوں کو پوری طرح لاگو نہیں کیا جا رہا ہے۔ قطر دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کی اجازت دے رہا ہے۔ تاہم واشنگٹن نے دہشت گردی کی فنڈنگ پر روک لگانے کے حوالے سے دوحہ کی حالیہ کوششوں کو سراہا ہے۔

اقوام متحدہ میں بعض ذمے داران اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار داد 1267 کو بہتر بنایا جائے تا کہ پابندیوں کے زمرے میں آنے والے افراد اور ادارے بڑی مالی رقوم حاصل نہ کر سکیں۔