.

قطر تخریب کار ریاست، بائیکاٹ کا فیصلہ مختارانہ ہے: موریتانوی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک موریتانیہ کے صدر محمد ولد عبدالعزیز نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ قطر کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نادم نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں قطر کے حوالے سے ہمارا موقف پہلے سے وہی تھا جو اب ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں موریتانوی صدر نے قطری قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ قطر ایک تخریب کار ریاست ہے۔ انہوں‌نے قطر اور سابق جرمنی نازی دور کے درمیان تقابل کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ کی پالیسیاں جرمنی کے نازیوں سے مماثلت رکھتی ہیں۔ قطر نے جو پالیسی پڑوسی عرب ملکوں کے حوالے سے اختیار کر رکھی ہے جرمنی کے نازیوں‌ نے وہی پالیسی اپنے دور میں اختیار کر رکھی تھی۔

محمد ولد عبدالعزیز نے کہا کہ قطر نے تیونس، لیبیا، شام اور یمن میں تخریب کاری کا کردار ادا کیا۔ قطر نے کئی یورپی اور مغربی ملکوں کو سنگین دھمکیاں دیں۔ دوحہ کی طرف سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ دیا۔

انہوں‌نے مزید کہا کہ قطر کے بائیکاٹ کا فیصلہ قومی خود مختاری کے تحت اور آزادانہ انداز میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بعض عرب ممالک کہیں تو ایران کے ساتھ تعلقات بھی ختم کیے جاسکتے ہیں۔ قطر کے ساتھ تعلقات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر فخر ہے۔ ہم نے وہی فیصلہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے باب میں‌کیا اور تعلقات ختم کرنے کی ذمہ داری قطر پر عاید کی۔