.

واشنگٹن: تہران میں نظام کی تبدیلی کے لیے ایرانی اپوزیشن کی سپورٹ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ارکان پارلیمنٹ اور سیاست دانوں نے زور دیا ہے کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے ایرانی اپوزیشن کی تحریک کو سپورٹ کیا جائے۔ یہ موقف امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں تہران کے حکومتی نظام کے مخالف ایرانیوں کے ایک بڑے مظاہرے سے خطاب کے دوران سامنے آیا۔

جمعے کے روز Organization of Iranian American Communities کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مظاہرے میں جلا وطن ایرانیوں، ایرانی قومی کونسل برائے مزاحمت (NCR) کے حامیوں اور ایرانی اپوزیشن تنظیم مجاہدین خلق کے ارکان نے شرکت کی۔

مظاہرین نے پوری دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں تا کہ ملک میں حکمراں نظام کی تبدیلی اور ایک آزاد جمہوری ریاست کے قیام کو ممکن بنایا جا سکے۔

امریکی وزارت خارجہ کی عمارت کے سامنے ہونے والے مظاہرے سے کئی امریکی شخصیات نے خطاب کیا۔ ان میں دو ارکان پارلیمنٹ براڈ شیرمین اور ٹوم میکلنٹوک، سینیٹر رابرٹ ٹورسیلی، اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر بیل رچرڈسن اور امریکی فوج کے سابق وائس چیف آف اسٹاف ریٹائرڈ جنرل جیک کین شامل ہیں۔

اس موقع پر سینیٹر رابرٹ ٹورسیلی نے اپنے خطاب میں ارکان کانگرس اور وائٹ ہاؤس کو یاد دہانی کرائی کہ تہران میں ملائی نظام کی اصلاح ممکن نہیں۔ انہوں نے ایرانی نظام کی جانب سے مرتکب دہشت گرد سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا جن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور مشرق وسطی کے ممالک میں امریکی اڈوں پر بم باری شامل ہے۔

امریکی رکن پارلیمنٹ براڈ شیرمین کا کہنا تھا کہ ایرانی نظام موت کے گھاٹ اتارنے کی اجتماعی کارروائیوں، صحافیوں کو جیل بھیجنے اور خطے میں دہشت گردی پھیلانے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دلیر ایرانیوں کے ساتھ یک جہتی کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جو اس عظیم قوم کی تاریخ میں ایک نئے باب کے واسطے لڑ رہے ہیں۔

شیرمین نے مطالبہ کیا کہ ایرانی نظام کے ان ایجنٹوں کے خلاف عدالتی کارروائی عمل میں لائی جائے جو واشنگٹن میں رہتے ہوئے ایرانی اپوزیشن کے ارکان کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات جمع کر رہے تھے۔

مظاہرین سے خطاب میں امریکی رکن پارلیمنٹ ٹوم میکلینٹوک نے کہا کہ ایرانی تحریک آزادی بڑے پیمانے پر پروان چڑھی ہے جب کہ ملائی نظام کی سرکشی مزید شدت پسندی اختیار کر گئی ہے اور یہ بدمعاشوں کا ٹولہ عوام کی کچلنے پر تلا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی نظام کی جانب سے بیرون ملک اپوزیشن پر وحشیانہ حملے، پڑوسی ممالک کے حوالے سے معاندانہ رجحان اور امریکی ڈرون حملے پر حملہ یہ مایوسی اور بوکھلاہٹ کی علامتیں ہیں۔

دوسری جانب ریٹائرڈ جنرل جیک کین نے جلا وطن ایرانیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سال 2018 ایران کے لیے ٹرننگ پوائنٹ تھا جب امریکا جوہری معاہدے سے علاحدہ ہو گیا اور 39 برس میں پہلی مرتبہ ایران کو خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ایرانی حکمراں نظام کو عوام کو کچلنے اور دہشت گردی پھیلانے کے لیے ایجنٹوں کے استعمال کا سلسلہ روک دینا چاہیے۔ اسی طرح بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی بند کر دینا ضروری ہے۔ امریکا نے 39 برسوں میں ایرانی نظام پر سخت ترین پابندیاں عائد کیں، ایرانی پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ ایرانی معیشت اس وقت کساد بازاری کا شکار ہے۔ کرنسی کی قیمت میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے اور بے روزگاری کی شرح بلند ہوتی جا رہی ہے۔ خوراک کی قلت بھی پیدا ہو گئی ہے۔ ایرانی عوام اس تمام صورت حال کا ذمے دار ملائی نظام کو ٹھہراتے ہیں"۔

امریکا کے سابق وزیر توانائی بیل رچرڈسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ تمام لوگوں پر لازم ہے کہ ایک نیا، آزاد اور جمہوری نظام قائم کرنے کے واسطے ایرانیوں کو سپورٹ کریں۔

اس موقع پر ایرانی قومی کونسل برائے مزاحمت کی سربراہ مریم رجوی نے مظاہرین کے لیے اپنے ریکارڈ شدہ پیغام میں کہا کہ "مُلائی نظام خون بہا رہا ہے اور عوام کے غم و غصے سے بچنے کے لیے تقریبا 40 سال سے لوگوں کی توجہ امریکا کی جانب مبذول کرا رکھی ہے۔ یہ لوگ اپنی تمام تر ناکامیوں پر امریکی عداوت کا پردہ ڈال دیتے ہیں"۔

رجوی نے باور کرایا کہ ایران کے باسی سڑکوں پر ہیں اور ملائی نظام جھوٹے دعوؤں میں لگا ہوا ہے کہ دشمن امریکا ہے۔ رجوی کے مطابق ایرانی نظام امریکا پر جنگ کی چاہت کا الزام عائد کرتا ہے مگر اپنی سرگرمیوں کو بھول جاتا ہے جن میں جوہری بم کی تیاری، البانیا اور فرانس میں بموں کی تنصیب، علاقائی پانی میں تیل بردار جہازوں میں بارودی سرنگوں کی تنصیب اور دھماکوں کی کارروائیوں، ڈرون طیاروں اور میزائلوں کے ذریعے مملکت سعودی عرب کو نشانہ بنانے اور بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی کوششیں شامل ہیں۔

رجوی نے استفسار کیا کہ سوچنا چاہیے کہ کون ہے جو جنگ چھیڑ رہا ہے؟