.

ہماری جمہوریت داؤ پر لگ چکی ہے: معروف تُرک مضمون نگار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں استنبول کے شہری میئر کے انتخابات کے سلسلے میں دوبارہ ووٹ ڈالنے کے لیے اتوار کے روز پولنگ مراکز کا رخ کریں گے۔ مارچ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں اپوزیشن کے امیدور اور اکرم امام اولو معمولی فرق سے جیت گئے تھے۔ تاہم ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی ترکی کی انتخابی کونسل پر دباؤ ڈال کر اس نتیجے کو منسوخ کرانے میں کامیاب ہو گئی۔

یہ بات معروف تُرک خاتون محقق اور مضمون نگار Asli Aydintasbas نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کہی۔

ایسلی نے انتخابی نتائج کی منسوخی کو ترکی میں برباد ہوتے جمہوری معیارات تک کے لیے رُسوا کن قرار دیا۔

اکثر سروے رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کے امیدوار امام اولو کو اطمینان بخش حد تک سابق وزیراعظم علی بن علی یلدریم پر برتری حاصل ہے۔ علی یلدریم صدر ایردوآن کی جماعت کی طرف سے میئر کے منصب کے امیدوار ہیں۔

استنبول شہر ایردوآن کے دل کے قریب شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف یہاں سے بطور میئر اپنے سیاسی کیرئر کا آغاز کیا بلکہ وسیع سیاسی شہنشاہیت کی تعمیر بھی کی۔ انہیں احساس ہے کہ نسبتا ایک کم عمر سیاست دان کے سامنے استنبول کی میئر شپ سے ہاتھ دھونا "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ" پارٹی کے زوال کا آغاز ہو سکتا ہے۔

اتوار کی شب جو بھی نتائج کا اعلان ہو اس سے قطر نظر ایردوآن کو چاہیے کہ وہ انتخابات کے نتائج کو تسلیم کریں۔ ترکی میں موجودہ صورت حال کافی خراب ہے لیکن اگر انتخابی عمل میں رکاوٹ آئی تو ملک کا مستقبل بدترین ہو جائے گا۔

ایسلی نے ایردوآن کے دور حکومت کے ابتدائی عرصے کے دوران بہت سے ترک اخبارات کے لیے بطور انقرہ بیورو چیف خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے ایردوآن کے طیارے میں بطور صحافی پوری دنیا کے دورے کیے اور ایردوآن کی فیصلہ سازی کے عمل کو جاننے کا موقع ملا۔

ایسلی کے مطابق کسی بھی چیز کے حتمی فیصلے تک ایردوآن کا ذہن آگے پیچھے ہوتا رہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چند روز سے ایردوآن استنبول میں میئر کے انتخابات کے حوالے سے بھی شش و پنج میں مبتلا ہیں۔

وہ کہہ چکے ہیں کہ اولو کی جیت کی صورت میں وہ اس فیصلے کو تسلیم کر لیں گے تاہم ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عدلیہ ممکنہ طور پر اولو کی پیش قدمی کو روک دے گی۔ منتخب ہونے کے بعد بھی اولو کو ان کے منصب سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ ایک صوبے کے گورنر نے اولو کے خلاف دو ہفتے قبل عدالتی دعوی دائر کیا ہے جس میں کہا گیا کہ اولو نے گورنر کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔

ایسلی کہتی ہیں کہ استنبول کے بلدیاتی انتخابات ایردوآن کو درپیش واحد مخمصہ نہیں۔ رواں ماہ ایک اور بڑا فیصلہ وارد ہو رہا ہے۔

اگر انقرہ روس سے S-400 فضائی دفاعی میزائل سسٹم خریدنے پر ڈٹا رہا تو اسے امریکی پابندیوں اور نیٹو اتحاد میں تنہائی کا سامنا ہو گا۔

ایردوآن مالیاتی ضوابط استعمال کرتے ہوئے معیشت کو ان جھمیلوں کے اثرات سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ گرتی ہوئی مالیاتی صورت حال میں سرمائے کی مزید منتقلی کو روکا جا سکے۔

دوسری جانب مغرب کی کہکشاں میں باقی رہنے کا مطلب ہے کہ آخرکار ترکی بتدریج نارمل زندگی اور ترقی کی طرف لوٹ جائے گا۔ مغرب میں ترکی کی پوزیشن افسوس ناک حد تک پیچیدہ ہے۔ ترکی کے لوگوں کے اندر یہ یقین بیٹھا ہوا ہے کہ مغرب ترکی کا خواہاں نہیں اور امریکا کو ترکی پر اعتماد نہیں۔

ہو سکتا ہے کہ ایردوآن اور ان کے حامیوں کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہ ہو کہ ترکی مغرب کا حصہ رہے۔ تاہم یہ رجحان غلط ہے کیوں کہ مغرب کا حصہ بن کر ہی ہم نے تقریبا 70 برس میں دولت اور طاقت حاصل کی۔ لہذا یورپ کے کلب سے دوری کا نتیجہ عدم استحکام ، ترکی کے اداروں کی تباہی اور معیشت کے بگاڑ کی صورت میں سامنے آئے گا۔

ایسلی کے مطابق دوسری طرف سلطنت عثمانیہ اور روس کے درمیان صدیوں کی جنگوں کے سبب ترکی ،،، روس کے بہت زیادہ قریب یا اس کے بہت زیادہ معاند نہیں ہو سکتا۔ اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ ترکی خود کو اپنے یورپی شراکت داروں کی صف میں کھڑا کرے۔ اس لیے کہ یورپی کلب میں اس بات کا موقع ہے کہ ترکی جمہوری اقدار اور اقتصادی ترقی کی بنیاد پر اپنی تعمیر نو کرے۔ اس سے باہر رہنے کا نتیجہ انارکی اور غربت ہے۔

ایسلی نے ایردوآن پر زور دیا ہے کہ وہ ووٹنگ کے نتائج کو قبول کریں ورنہ ترکی جمہوری دنیا سے بہت دور چلا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزید کسی انتخابی نتیجے کی منسوخی سے صرف داخلی شورشوں کی ہی نوید سنی جائے گی۔

ترک مضمون نگار نے اختتام پر لکھا کہ "اب یہ اکیلے ایردوآن کا فیصلہ ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران ترکی میں جمہوریت کو واقعتا نقصان پہنچ چکا ہے۔ تاہم اب بھی ترکی کے مستقبل کو بچایا جا سکتا ہے۔ ترکی جہنم کے دہانے پر کھڑا ہے اور ایردوآن کو اسے آگے نہیں دھکیلنا چاہیے"۔