.

ایران کے خلاف حملے کا آپشن منسوخ نہیں موخر کیا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عاید کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان بدستور موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ روکنے کے حوالے سے ان کے بیان کو غلط انداز میں‌ پیش کیا گیا۔ ایران پر حملے اور فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے۔ اسے فی الحال صرف ملتوی کیا گیا ہے، منسوخ نہیں‌ کیا گیا۔

صدر ٹرمپ ایران کو جوہری بم کی تیاری سے روکنا چاہتے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ "ہم ایران کے خلاف اضافی پابندیاں عاید کر رہے ہیں۔ بعض کیسوں میں تو ہم سست روی سے چل رہے ہیں لیکن بعض کیسوں میں ہم تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔"

ایک دوسرے بیان میں‌ انہوں نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ کل سوموار سے تہران پر مزید سخت پابندیاں عاید کی جائیں گی۔

وہ ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس میں کیمپ ڈیوڈ کے لیے روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیمپ ڈیوڈ میں قیام کے دوران میں ایران کے مسئلے کے بارے میں غور کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے دو روز قبل ہی بین الاقوامی فضائی حدود میں ایک امریکی ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد کہا تھا کہ اس کے ردعمل میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے شاید غلطی سے امریکا کا ڈرون مار گرایا ہے۔

ادھر ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگراس نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف کوئی بھی جارحیت کی تو اس کے خطے میں امریکی مفادات کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے۔

مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل ابو الفضل شیکرچی نے ہفتے کے روز خبر رساں ایجنسی تسنیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'ایران کی جانب کوئی ایک گولی چلی تو اس کے بعد مشرقِ اوسط میں امریکا اور اس کے مفادات کو آگ لگ جائے گی۔" انھوں نے دھمکی دی کہ :’’اگر دشمن ہماری جانب ایک گولی چلائے گا تو ہم اس کے جواب میں دس گولیاں چلائیں گے'۔