.

شامی فوج کے ادلب میں واقع علاقوں پر فضائی حملے جاری ، دو بچّوں سمیت مزید چار شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع شہروں اور دیہات پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں دو بچوں سمیت مزید چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ شامی فوج کے لڑاکا طیارے نے اتوار کو صوبہ ادلب میں واقع گاؤں یوسف پر بمباری کی ہے جس سے دو بالغ افراد اور دو بچے مارے گئے ہیں۔

رصدگاہ کے مطابق گذشتہ بدھ سے ادلب پر فضائی حملوں میں 60 سے زیادہ شہری ہلاک ہوچکےہیں۔شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں نے اپریل کے بعد سے ادلب اور اس کے ساتھ واقع صوبے حماہ میں واقع علاقوں پر فضائی بمباری کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور ان کے فضائی حملوں میں اب تک 470 سے زیادہ شہری مارے جاچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ادلب میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد سے تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب جاچکے ہیں۔فضائی حملوں میں 23 مراکزِ صحت کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ناکارہ ہوچکے ہیں اور وہاں زخمیوں اور مریضوں کے لیے علاج معالجےکی سہولت دستیاب نہیں رہی ہے۔

ترکی اور روس کے درمیان گذشتہ سال ستمبر میں آستانہ میں شام میں جنگ بندی کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا ۔اس کے تحت شام اور روس نے ادلب میں باغیوں کے خلاف بڑی کارروائی نہ کرنے سے اتفاق کیا تھا اور ادلب اور اس کے نواحی علاقوں میں ’’غیر فوجی علاقہ‘‘ کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا لیکن اس سمجھوتے پر ابھی تک مکمل عمل درآمد نہیں کیا جاسکا ہے۔ اب شامی اور روسی طیاروں کے باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی علاقوں پر حملوں میں شدت کے بعد صورت حال روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہے۔