.

امریکا کے زیر اہتمام بحرین میں فلسطین میں ’’امن سے خوش حالی‘‘ کے موضوع پر ورکشاپ

مشرقِ اوسط کے دیرینہ تنازع کے منصفانہ سیاسی حل کے بغیر فلسطینیوں کی خوش حالی ممکن نہیں: جیرڈ کوشنر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس کے سینیر مشیر جیرڈ کوشنر نے کہا ہے کہ مشرقِ اوسط کے دیرینہ تنازع کے منصفانہ سیاسی حل کے بغیر فلسطینیوں کی خوش حالی ممکن نہیں ۔البتہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے ایک اقتصادی لائحہ عمل پر سمجھوتا ضروری ہے۔

مسٹر کوشنر بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منگل کے روز امریکا کے زیر اہتمام ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کررہے تھے۔اس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ عرب، اسرائیل امن منصوبے کے اقتصادی حصے کی رونمائی کی جارہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس مجوزہ منصوبے کے سیاسی حصے کے بارے میں اس ورکشاپ میں کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا جائے گا۔

اس میں 50 ارب ڈالرز مالیت کے مشرقِ اوسط اقتصادی منصوبے کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اظہار خیال کیا جائے گا۔ امریکا نے اسی ہفتے اس منصوبے کا اعلان کیا تھا۔اس کے تحت ایک عالمی سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا جائے گا جس سے فلسطینیوں اور عرب ریاستوں کی معاشی حالت میں بہتری لائی جائے گی۔نیز غزہ اور غرب اردن کو ملانے کے لیے پانچ ارب ڈالر کی لاگت سے ایک راہداری تعمیر کی جائے گی۔

ورکشاپ میں جیرڈ کوشنر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ اوسط کے لیے خصوصی ایلچی جیسن گرین بلاٹ امریکی صدر کے طویل عرصے سے التوا کا شکار مجوزہ اسرائیل ، فلسطینی امن منصوبے کے اقتصادی حصے کی تفصیل کا اعلان کریں گے۔صدر ٹرمپ اس منصوبے کو ’’ صدی کی ڈیل‘‘ قراردیتے ہیں ۔اس کا مقصد غربِ اردن اور غزہ پٹی میں عرب ڈونر ممالک کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔اس کے بعد اس دیرینہ تنازع کے حل کے لیے منصوبے کے سیاسی حصے کو منظرعام پر لایا جائے گا۔

منامہ میں جاری دوروزہ ورکشاپ میں کوشنر کی تقریر کے بعد مشرقِ اوسط میں خوش حالی کے لیے ایک اتحا د کی تشکیل پر مذاکرہ جاری تھا۔ اس میں جن دوسرے موضوعات پر پینل منعقد ہورہے ہیں ، ان میں اقتصادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا، لوگوں کو بااختیار بنانے کے لیے اقدامات، خواتین کو بااختیار بنانے سے افرادی قوت کی مضبوطی اور ترقی کی نئی بنیادیں شامل ہیں۔اس کے علاوہ ،ترقی اور شرح نمو کے مختلف پہلوؤں ، تفریح اور کھیلوں کی طاقت ،مستقبل میں صحتِ عامہ کا نظام ، مقامی کاروباری ماحول کی تشکیل اور معاشی تبدیلی کے موضوعات پر مجالس مذاکرہ منعقد ہو رہی ہیں۔

اس ورک شاپ میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی سرکردہ کاروباری شخصیات شریک ہیں،ان میں متحدہ عرب امارات کی تعمیراتی فرم عمار پراپرٹیز کے بانی چئیرمین محمد البار ، امریکی فرم بلیک اسٹون اسٹیون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) اور شریک بانی شوارزمین ، نائجیریا کی ہیرس ہولڈنگ کے چئیرمین ٹونی ایلومیلو ،ترک سوما کے صدر سلیم بورا ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارد ، روس کے براہ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سی ای او کیریل دمتریف اور برطانوی کمپنی بیچل کے جنرل مینجر مائیکل ولکنسن شامل ہیں۔ اس میں عرب حکومتوں اور یورپی ممالک کے مندوبین کی بڑی تعداد بھی شریک ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی حکومت کے عہدے داروں کو منامہ میں فلسطین کے اقتصادی منصوبے سے متعلق اس ورک شاپ میں مدعو نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیر عہدہ دار کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کانفرنس کی غیر سیاسی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ فلسطینی حکومت نے اس کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے امریکا نے اس سلسلے میں کوئی مشاورت نہیں کی ہے۔