.

ایرانی میڈیا بھی امریکی پابندیوں کی لپیٹ میں آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آتا ہے کہ ایران کو درپیش اقتصادی بحران کے اثرات نے میڈیا سیکٹر کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بالخصوص ایران کا نیوز چینل "العالم" جس کا دفتر شام کے دارالحکومت دمشق میں ہے۔ اس کا سربراہ لبنانی صحافی حسین مرتضی تھا۔ مرتضی نے دو روز قبل اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو واضح کیا ہے کہ تہران میں "العالم" نیوز چینل کی مرکزی انتظامیہ نے کئی ماہ پہلے دمشق اور بیروت میں اپنے دفاتر کو ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ یہ فیصلہ امریکا کی جانب سے اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد اخراجات میں کمی لانے کی پالیسی کے تحت کیا گیا۔

حسین مرتضی ایرانی ملیشیاؤں اور حزب اللہ تنظیم سے جُڑے ہوئے میڈیا پرسن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسے بیروت بیورو میں "ایران پریس" نیوز ایجنسی کی ڈائریکٹر شپ کی پیش کش کی گئی مگر اس نے ایجنسی کے کم مشہور ہونے کے سبب اس پیش کش کو مسترد کر دیا۔

سینتالیس سالہ حسین مرتضی کی پیدائش بیروت کے علاقے "تل الزعتر" میں ہوئی۔ اس نے ایرانی "العالم" چینل کے رپورٹر کے طور پر دمشق میں آٹھ برس گزارے۔ اس دوران وہ ایرانی ملیشیاؤں اور حزب اللہ کے ہمراہ شام میں لڑائی کے میدانوں میں منتقل ہوتا رہا۔