.

خامنہ ای پر پابندیوں کے بعد ایران نے سفارت کاری کا راستہ دفن کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر اور دیگر اعلی عہدیداروں پر پابندیوں سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارت کاری کا راستہ مستقل طور پر بند کر دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ "ایرانی سپریم لیڈر (آیت اللہ علی خامنہ ای) اور ایرانی سفارت کاری کے سربراہ (وزیر خارجہ محمد جواد ظریف) پر غیر سنجیدہ نوعیت کی پابندیوں کا مطلب سفارت کاری کی راہ کو مستقل صورت میں مسدود کر دینا ہے"۔ موسوی نے مزید کہا کہ "ٹرمپ انتظامیہ عالمی امن اور سلامتی برقرار رکھنے کے بین الاقوامی میکانزم کو تباہ کر رہی ہے"۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ نئی پابندیوں کا مرکزی ہدف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں گذشتہ ہفتے امریکا کے ایک ڈرون کو مار گرانے کے ردعمل میں عائد کی جا رہی ہیں۔

ادھر امریکی وزیر خزانہ سٹیون منوچن کے مطابق پیر کے روز عائد کی جانے والی پابندیاں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو بھی لپیٹ میں لیں گی۔