.

قطرکے شاہی خاندان کی بہو اپنے زیرِ حراست شوہر کی تذلیل پر پھٹ پڑیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر کے بانی الشیخ احمد بن علی آل ثانی کے زیر حراست پوتے الشیخ طلال آل ثانی کی اہلیہ اسماء اریان نے الزام لگایا ہے کہ قطری حکام نے دھوکے سے ان کے شوہر سے اپنے والد سے ترکہ میں ملنے والی جائیداد ہتھیانے کے بعد اُنھیں پابند سلاسل کررکھا ہے۔

یاد رہے کہ شیخ احمد بن علی آل ثانی 1960 سے1972 تک امیر قطر رہے تھے۔ مرحوم الشیخ احمد کو ان کے کزن الشیخ خلیفہ بن حمد نے معزول کر کے اقتدار پر قبضہ جما لیا تھا۔ الشیخ خلیفہ بن حمد موجودہ امیر قطر تمیم بن حمد کے دادا تھے۔

'اسکائپ' کے ذریعے'العربیہ' چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اسماء اریان نے بتایا کہ قطری حکام نے الشیخ طلال اور ان کے والد کی جائیداد دھوکے سے ہتھیائی۔ اس کے بعد جب وہ آزادانہ کام کرنے لگے توان پرعرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔ ان کی اور پورے خاندان کی زندگی جہنم زار بنا دی گئی۔

اسماء اریان نے بتایا کہ قطری حکومت تسلیم کرتی ہے کہ قبضے میں لی گئی الشیخ طلال آل ثانی کی جائیداد حکومت کے پاس امانت ہے، جسے واپس کردیا جائے گا مگر حکومت جائیداد کی واپسی میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اسماء اریان نے بتایا کہ اتوار کو ان کی زیر حراست شوہر طلال آل ثانی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی۔ الشیخ طلال نے اپنے ساتھ روا رکھے گئے توہین آمیز سلوک کے بارے میں بتایا۔ الشیخ طلال آل ثانی نے کہا کہ جیل میں انہیں غیر انسانی ماحول میں رکھا گیا ہے۔

اریان کے مطابق وہ اپنے شوہر اور ان کے بچے اپنے والد کے فراق میں انتہائی دُکھ اور الم کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ والد کی زندگی میں بھی بچے یتیمی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم لوگ دوحہ میں رہے، ہماری زندگی اجیرن بنا دی گئی تھی۔ جب میرے شوہر کو حراست میں‌ لیا گیا تو اس وقت میں اُمید سے تھی۔ ان کی اسیری کے دوران پیدا ہونے والے میرے سب سے چھوٹے بیٹے نے اپنے والد کو دیکھا تک نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے خدشتہ ہے کہ اگر میرے بچے اپنے والد سے ملنے جیل گئے تو قطری حکام ان کے ساتھ بھی توہین آمیز سلوک کریں گے۔