.

لبنان کے حکمراں اتحاد میں شامل دو اہم جماعتوں میں 'ٹویٹر' پرجنگ اور لفظی گولہ باری!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے حکمراں اتحاد میں شام دو اہم جماعتوں کی قیادت کےدرمیان ان دِنوں سوشل میڈیا پر جنگ کی کیفیت ہے اور دونوں جماعتوں کے لیڈر'ٹویٹر' پرایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کررہےہیں۔

وزیراعظم سعد الحریری کی'فیوچر پارٹی' اور ان کے اتحادی ولید جنبلاط کی 'سوشلسٹ پروگریسیو' پارٹی کے درمیان کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب پروگریسیو کے وزیر صنعت وائل انبو فاعور نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ'ٹویٹر' پر ایک ٹویٹ میں سعد حریری اور ان کی جماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جواب میں سعد حریری نے فاعور کے اعتراضات مسترد کردیئے۔ اس کے بعد کیا تھا دونوں‌ جماعتوں کے سوشل میڈیا پر سرگرم لیڈر ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر حملے کرنے لگے ہیں۔

ولید جنبلاط کی پارٹی کے رہ نما اور وزیرصعنت نے حکومت میں حالیہ انتظامی تبدیلیوں اور انتظامی شعبے میں نئی تقرریوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ انتظامی عہدیداروں کی نئی تقرریاں ان کی جماعت کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے خلاف ہیں۔

ٹویٹر پرجنگ

ٹویٹر پرایک ٹویٹ میں سوشلسٹ پارٹی کے رہ نما فاعور نے کہا کہ 'فیوچرپارٹی' کے ساتھ ہمارے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہےہیں۔ ہمیں ملک میں سیاسی مفاہمت جس کے تحت سعد الحریری کو وزیراعظم اور میشل عون کو صدر منتخب کیا گیا پربھی اعتراض ہے۔ اس کے بعد حکومت جس ڈگر پرچل رہی ہے وہ بھی کوئی مثال نہیں۔ ان کے اس بیان کے جواب میں سعد حریری نے لکھا کہ'سوشلست پارٹی کے بھائیو تمہارا مسئلہ تمہاری اپنی جماعت کے اندر ہے اور اسے تم اچھی طرح جانتے بھی ہو۔ سوشلسٹ پارٹی ہمی وفاداری اور حب الوطنی کا سبق نہ پڑھائے'۔

دونوں رہ نمائوں کی ٹویٹر پر لفظی جنگ کے ساتھ ہی دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے حامی بھی لنک لنگوٹ کس کرٹویٹر کے میدان میں اتر آئے۔ اس کےبعد دونوں‌ جماعتوں کے لیڈر حکومت میں اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف خوب گرج اور برس رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے لیڈر ایک دوسرے پر جانب داری، اقربا پروری اور من پسند افراد کی سیاسی عہدوں پر تعیناتی کا الزام عاید کرتے ہیں۔

ذاتی نوعیت کے اختلافات سے کیا نکلا؟

'فیوچر' پارٹی کے رہ نما اور رکن پارلیمنٹ بکر الحجیری نے سوشل میڈیا پر'سوشلسٹ پروگریسیو' پارٹی کے ساتھ جاری محاذ آرائی کے بارے میں'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'کاش سوشل میڈیا پریہ جنگ نہ چھڑتی' انہوں‌نے کہا کہ اس وقت ملک اقتصادی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں حکومتی اتحادیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کیچڑ اچھالنےاور رہ نمائوں کی ذاتیات پرحملے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

سوشلسٹ پارٹی کے شعبہ اطلاعات کے انچارج رامی الریس نے'العربیہ ڈاٹ‌نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی کارکردگی پرہمیں اعتراض ہے۔ جس طریقے سے سیاسی جماعتوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی وہ ٹھیک نہیں۔ جماعت کے سربراہ ولید جنبلاط متعدد بار اپنی ٹویٹس میں اس طرح نشاندہی کرچکے ہیں۔ ہم نے اپنا سیاسی موقف اور اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم کے ساتھ سیاسی اختلافات ہیں مگر اسے ذاتی اختلافات کار رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔