.

مصر میں انتشار پھیلانے کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا

تُرکی سے مصرمیں چلائے جانے والے اخوان کا مالیاتی نیٹ ورک قانون کے شکنجے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی وزارت داخلہ نے ترکی سے چلائی جانے والی اخوان المسلمون کے حامیوں کی 19 کمپنیوں اور اقتصادی اداروں کے خلاف کارروائی کر کے ان کے اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔ سیکیورٹٰی اداروں نے بروقت کارروائی کرکے سمندر پار اخوانیوں اور ان کے اندرون ملک سہولت کاروں کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔

مصری وزارت داخلہ کے مطابق پابندی کی زد میں آنے والی اخوان المسلمون کے حامیوں کی کمپنیوں کو ترکی میں‌ موجود اخوان ارکان چلا رہے تھے۔ یہ کمپنیاں مصر میں اخوان کی سرگرمیوں بالخصوص پرتشدد کارروائیوں میں بھی ملوث تھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے سیکیورٹی سیکٹر نے مانیٹرنگ کے ذریعے اخوان کی مفرور قیادت اور مصر میں موجود ان کے سہولت کاروں‌ کے درمیان رابطے کا پتا چلایا جو مصر میں'امید پروگرام' کے تحت خود کو سیاسی جماعتوں کے نمائندوں‌ کے طورپر پیش کر رہے تھے۔ مگر در پردہ یہ لوگ ریاست کے خلاف سرگرم تھے۔

مصری حکام کا کہنا ہے کہ 'امید پروگرام' کے ذریعے اخوان اور ان کے مالی معاونت کاروں کو منظم اور مربوط بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اقتصادی اداروں اور کمپنیوں‌ کے ذریعے اخوان کی مالی معاونت اور فنڈز جمع کر کے ریاستی اداروں پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اخوان عناصر ملک میں 30 جون کو جماعت اقتدار کے خاتمے کے موقع پر افراتفری پھیلانے کے لیے سرگرم تھے۔

مصر میں قومی سلامتی سے متعلق اداروں کے مطابق بیرون ملک قیادت ملک میں موجود اپنے عناصر تک غیر قانونی طریقوں سے رقوم کی منتقلی، اخوان کے دہشت گرد عناصر کے ساتھ تعاون اور مصر مخالف مفرور دولت مند اخوانیوں کے مال کو مصر میں انارکی پھیلانے کے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ مصر میں اخوان کی مختلف کاروباری سرگرمیوں کی نشاندہی ایک ایسے وقت میں گئی ہے جب دوسری جانب اخوان کے بیرون ملک مفرور ہونے والے عناصر نے سوشل میڈیا کے ذریعے مصر کے خلاف شعلہ بیانی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔