.

یمن : حوثی ملیشیا کے دھڑوں کے بیچ اختیارات اور مال کی جنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وسطی شہر اِب میں پیر کے روز باغی حوثی ملیشیا کے زیر انتظام مسلح گروپوں کے درمیان ہلکے اور درمیانے ہتھیاروں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں سے مختلف علاقوں میں حوثی ملیشیا کے گروپوں کے درمیان نفوذ اور آمدن کے لیے جاری تنازع کے حجم کا اندازہ ہو رہا ہے۔

یمنی میڈیا کے مطابق اِب شہر میں سڑکوں پر ہونے والی جنگ سے مقامی آبادی کے اندر خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اس دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہو گئے اور سڑکیں سنسان ہو گئیں۔

العربیہ کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق جھڑپوں کے نتیجے میں ابتدائی طور پر اِب صوبے میں حوثیوں کی جانب سے سکریٹری کے عہدے پر متعین کمانڈر اسماعیل عبدالقادر کی ہلاکت اور متعدد مسلح عناصر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اسی طرح مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک اور حوثی کمانڈر بلال عبداللہ بھی زخمی ہو گیا۔

بعد ازاں مرکزی سیکورٹی کے سربراہ احمد حسان کے اپنی فورس کے ہمراہ آنے کے بعد جھڑپوں میں شدت آ گئی۔

باخبر ذرائع نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ ان جھڑپوں کے پھوٹ پڑنے کی اصل وجوہات کا تعلق اِب صوبے میں نفوذ اور حوثی ملیشیا کے مختلف مسلح گروپوں کے درمیان آمدنی کی تقسیم پر پرانے اختلافات ہو سکتے ہیں۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق پیر کو جو کچھ ہوا وہ ایک عرصے سے قائم تناؤ اور کشیدگی پھٹ پڑنے کے مترادف ہے۔ متحارب فریقوں کے بیچ عہدوں، آمدن اور بھتّوں کی تقسیم کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اس دوران فضا میں غیر معمولی کشیدگی موجود ہے اور اِب شہر کی سڑؑکوں پر مسلح افراد پھیلے نظر آ رہے ہی ں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اِب صوبے میں ماضی میں بھی متحارب حوثی رہ نماؤں کے بیچ نفوذ کے حصول کے لیے وقفے وقفے سے جھڑپیں دیکھی جاتی رہی ہیں۔ تاہم حالیہ جھڑپیں 2014 میں صوبے پر حوثی ملیشیا کے قبضے کے بعد سے ہونے والی شدید ترین معرکہ آرائی ہے۔