.

بغداد میں بحرینی سفارت خانے پر حملہ قاسم سلیمانی کے ایماء پر ہوا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

باخبر عراقی ذرائع نے'العربیہ' نیوز چینل کو بتایا ہے کہ پاسداران ایران کے بیرون ملک آپریشن ونگ ’’القدس بریگیڈ‘‘ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے الحشد الشعبی شیعہ ملیشیا کو بغداد میں بحرین کے سفارت خانے پر یلغار کا حکم دیا تھا۔

اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا کہ بحرین کے سفارت خانے پر دھاوا بولنے والی ملیشیائوں میں حزب اللہ بریگیڈ، سید الشہداء‌ بریگیڈ کے سیاسی شعبے کے عہدیدار عبدالامیر العبودی، النجبا میڈیا کے عہدیدار امیر القریشی، کتاب الام علی کے شبل الزیدی اور حزب اللہ بریگیڈ کے عبدالامیر پیش پیش تھے۔

ذرائع کے بقول حملہ آوروں نے 100 سے 150 بلوائی جمع کیے اور احتجاجی مظاہرے کی آڑ میں بغداد میں بحرینی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مناما میں ہونے والی اقتصادی ورکشاپ کے خلاف احتجاج کی آڑ میں کیا گیا۔ مظاہرین نے سفارت خانے کی بیرونی دیوار توڑ دی اور اندر داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ کی کوشش کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے بحرینی سفارت خانے کے باہر دوبارہ مظاہرے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ عراقی وزارت داخلہ پیروکاروں کو گرفتار کرتی ہے اور ان کے لیڈروں کو چھوڑ دیتی ہے۔

درایں اثناء عراقی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز جاری ایک بیان میں بغداد میں بحرینی سفارت خانے پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق حکومت مُلک میں سفارت خانوں اور ہائی کمیشن کی عمارتوں کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز درجنوں بلوائیوں‌ نے بغداد میں قائم بحرینی سفارت خانے پر دھاوا بولا۔ بحرینی سفارت خانے پر حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔