.

جواد ظریف کو امریکی پابندیوں کی کیا قیمت چکانا پڑ سکتی ہیں؟

پابندیوں سے ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار کے اثاثے منجمد اور امریکی دوروں پر پابندی لگ جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں امریکا نے ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای پر اقتصادی پابندیاں لگانے کے بعد وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو بھی اقتصادی پابندیوں کا نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے بعدد محمد جواد ظریف کے بیرون ملک بالخصوص امریکا میں موجود اثاثے منجمد ہو جائیں‌ گے۔ جواد ظریف جنہوں‌ نے زندگی کا ایک بڑا حصہ امریکا میں گذارا ہے اور وہ وہاں ایرانی لابی تیار کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے جواد ظریف پر پابندیوں کے نتیجے میں نہ صرف امریکا میں جواد ظریف کے تمام اثاثے منجمد ہو جائیں گے بلکہ امریکا کے لئے ان کے آئے روز کے دورے بھی بند ہو جائیں گے۔

گذشتہ سوموار کو امریکی وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے وائٹ ہائوس میں ایک پریس کانفرنس کو بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پر رواں ہفتے کے اختتام تک اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا حکم دیا ہے۔

جواد طریف ایک ایسے وقت میں امریکا میں بلیک لسٹ ہونے جا رہے ہیں جب واشنگٹن نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے چوٹی کے 8 عہدہ داروں پر بھی پابندیاں‌عاید کی ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی پابندیوں کا ہدف ایران کے وہ عہدیدار ہیں جو ایران کے گھٹیا رویے کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے جب خلیج عرب میں امریکا کا ایک بغیر فوجی ڈرون طیارہ ایران نے مار گرایا تو اس کے بعد ان عہدیداروں پر پابندیوں کا فیصلہ ہوا۔

جواد ظریف ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ 12 رکنی سپریم قومی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں۔ یہ کونسل ایران میں انتہائی طاقت ور سمجھی جاتی ہے جو ملک کو داخلی اور خارجی سطح پر درپیش چیلنجوں سے متعلق سپریم لیڈر کو اپنی سفارشات پیش کرتی ہے۔

محمد جواد ظریف کو ایک طرف سخت گیر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب سمجھے جاتے ہیں اور دوسری جانب وہ اصلاح پسند صدر حسن روحانی کے بھی قابل اعتماد وزیر خارجہ ہیں۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں سینیر مذاکرات کار رہنے والی خاتون سفیر وینڈی چیرمن نے'وائس آف امریکا' کی فارسی سروس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں‌ کہا تھا کہ جواد ظریف سے بڑھ کر مرشد اعلیٰ کا کوئی اور مقرب عہدیدار نہیں۔ وہ ایک ہی وقت میں صدر حسن روحانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای دونوں‌ کے چہیتے ہیں۔ امریکی ۔

ایرانی کونسل کے زیر اہتمام ریسرچ گروپ کے چیئرمین ہوشانگ امیر احمدی کا کہنا ہے کہ 30 سال کی تاریخ میں جواد ظریف جیسا قابل بھروسہ وزیر خارجہ خامنہ ای کو نہیں ملا۔

امیر احمدی، جو سنہ 2002ء سے 2007ء تک اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے انتقامی کارروائی کے تحت جواد ظریف پر پابندیاں‌عاید کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ جواد ظریف ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے خلاف نفرت انگیز اور انتہائی سخت الفاظ پر مبنی'ٹویٹس' کرتے رہے ہیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ رواں سال کے دوران جواد ظریف نے صدر ٹرمپ کا نام لے کر ان کے خلاف 31 ٹویٹس کیں جب کہ انہوں‌ نے کل 120 ٹویٹس کی تھیں۔