.

سفارت خانوں کی سیکورٹی سُرخ لکیر ہے، پار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: عراق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں وزارت خارجہ نے بغداد میں بعض مظاہرین کی جانب سے مملکت بحرین کے سفارت خانے پر دھاوے کی مذمت کی ہے۔ جمعے کے روز جاری ایک بیان میں وزارت خارجہ نے باور کرایا کہ وہ سفارتی مشنوں کی حرمت کی پاسداری پر کاربند ہے۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سفارت خانوں کی سیکورٹی سرخ لکیر ہے جس کو پار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سیکورٹی حکام نے تمام تر اقدامات کر لیے ہیں اور ذمے دار افراد اور اس کارروائی پر اکسانے والوں کے تعاقب کے لیے انتہائی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

وزارت خارجہ کے مطابق بحرین کے سفارت خانے پر دھاوا بولنے والوں میں کئی افراد کو پکڑ لیا گیا ہے تا کہ انہیں عدالت کے کٹہرے میں پیش کیا جا سکے۔ مزید برآں سفارت خانے کی عمارت یا اس کے کسی بھی اہل کار پر حملے سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں۔

عراقی وزیر خارجہ محمد علی الحکیم نے جمعرات کی شام بغداد میں اس واقعے کے بعد بحرین کے سفارت خانے کا دورہ کیا تھا۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق جمعرات کی شب 45 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا جب کہ بغداد میں بحرین کے سفارت خانے کے آگے موجود مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران عراقی فوج کے 5 اہل کار زخمی ہو گئے۔

بحرین کی وزارت خارجہ نے سفارت خانے پر مظاہرین کے دھاوے کے بعد بغداد میں اپنے سفیر صلاح علی المالکی کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا۔

وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سفارتی تعلقات سے متعلق 1961 کے ویانا سمجھوتے کے تحت عراق میں مملکت بحرین کے سفارت خانے، قونصل خانے اور ان کے تمام ملازمین اور اہل کاروں کے تحفظ کی مکمل ذمے داری عراقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

بحرین کی وزارت خارجہ نے سفارت خانے پر حملے اور وہاں پر تخریب کاری کی مذمت کی ہے۔

بغداد میں جمعرات کے روز مظاہرین کے ایک گروپ نے بحرین کے سفارت خانے پر حملہ کر کے عمارت کے شیشوں اور کئی دروازوں کے ساتھ توڑ پھوڑ کی اور بحرین کا پرچم اتار کر سفارت خانے پر فلسطینی پرچم لہرا دیا۔

دوسری جانب عراقی حکومت نے جمعرات کی شام برادر ملک بحرین کے سفارت خانے پر بعض مظاہرین کے حملے اور وہاں سفارتی مشنوں کی مامونیت کے خلاف تخریبی کارروائیوں پر اپنے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی اداروں نے بلوائیوں کو سفارت خانے سے باہر نکالنے اور ذمے داروں کو حراست میں لینے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ عراقی حکومت نظام اور قانون کی خلاف ورزی روکنے میں سنجیدہ ہے اور اس نوعیت کی کارروائیوں کو ہر گز درگزر نہیں کیا جائے گا۔