.

وڈیو: بغداد میں ایران کے ہمنوا عراقیوں کا بحرین کے سفارت خانے پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغداد میں ایران کے ہمنوا عراقی مظاہرین نے جمعرات کی شام بحرین کے سفارت خانے پر دھاوا بول دیا۔

ایک عراقی ذریعے کے مطابق مظاہرین کے ایک گروپ نے سفارت خانے کے شیشوں اور کئی دروازوں کے ساتھ توڑ پھوڑ کی اور بحرین کا پرچم اتار کر سفارت خانے پر فلسطینی پرچم لہرا دیا۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں المنصور کے سخت سیکورٹی والے علاقے میں واقع سفارت خانے کو مادی نقصان پہنچا۔

مظاہرے کا آغاز مناما میں ہونے والی کانفرنس کی مذمت سے ہوا۔ بعد ازاں بعض مظاہرین نے سفارت خانے میں آگ لگانے کی بھی کوشش کی تاہم سیکورٹی فورسز کی مداخلت نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔ سیکورٹی اہل کاروں نے مظاہرین کو منتشر کیا اور ان میں سے بعض کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق بعض مظاہرین مسلح بھی تھے۔ مظاہرے کا انعقاد الحشد الشعبی کے ہمنوا افراد اور الصدری گروپ کے بعض کارکنان کی جانب سے کیا گیا تھا۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق بغداد میں بحرین کے سفیر عراقی ذمے داران سے رابطے کیے تا کہ سفارت خانے کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ نمائندے نے بتایا کہ واقعے کے بعد اس وقت سفارت خانے کا عملہ موجود نہیں ہے۔ نمائندے کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام اشارے اس بات کا پتہ دے رہے ہیں کہ جو کچھ ہوا وہ منصوبہ بندی کے تحت عمل میں لایا گیا۔

بحرین میں بدھ کے روز ختم ہونے والی دو روزہ کانفرنس کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے 50 ارب ڈالر مالیت کے اقتصادی سپورٹ کے منصوبے کو فروغ دینا ہے۔ یہ منصوبہ مشرق وسطی سے متعلق امن منصوبے سے قبل سامنے آیا ہے۔ امن منصوبے کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

عراق ایسی ملیشیاؤں کا گڑھ ہے جن کو ایران کی سپورٹ حاصل ہے۔ بحرین کے سفارت خانے پر حملہ مشرق وسطی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے سائے میں واقع ہوا ہے۔