.

ویانا مذاکرات بہتری کی جانب ایک ناکافی قدم ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقجی نے کہا ہے کہ ویانا میں سفارت کاروں کا جمعہ کے روز ہونے والا اجلاس 2015 کے جوہری معاہدے کو ناکامی سے بچانے کی کوششوں کے ضمن میں’’بہتری کی جانب قدم‘‘ ہے، تاہم ان کوششوں کا نتیجہ ’’ابھی ناکافی ہے۔‘‘

عباس عراقجی نے مزید کہا کہ یورپی، روسی اور چینی عہدیداروں کے ساتھ ویانا میں ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ ’’ایرانی امنگوں کے مطابق نہیں ہے۔‘‘

ویانا اجلاس کی سائیڈ لائنز پر اظہار خیال کرتے ہوئے چینی عہدیدار نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا ’’کہ بیجنگ ایران کے خلاف لگائی گئی امریکی پابندیوں کے باوجود تہران سے تیل خریدنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ یاد رہے گذشتہ چند مہینے قبل امریکا نے جوہری معاہدے سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر پابندیاں عاید کر دی تھیں۔

چینی وزارت خارجہ میں اسلحہ کںڑول کے ڈائریکٹر جنرل فو کانگ نے صحافیوں کو بتایا ’’ہم امریکا کی طرز پر ایرانی تیل کی درآمدات کم سے کم کرنے کی پالیسی پر نہیں چلیں گے۔ ہم یکطرفہ سزاؤں کے خلاف ہیں۔‘‘

’’ہمارا مطالبہ ہے کہ جوہری معاہدے کا پاس رکھتے ہوئے ایران کو اپنا تیل برآمد کرنے کا موقع دیا جائے۔ مئی 2018ء میں معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے بعد ایران کی تیل برآمدات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔‘‘

2015ء کے جوہری معاہدے کی پاسداری کے طلب گار ممالک جرمنی، چین، فرانس، برطانیہ اور روس نے آسٹریا کے صدر مقام ویانا میں جمعہ کے روز دوسرے یورپی ملکوں کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ جوہری معاہدے کو ناکامی سے بچانے کی تدابیر پر غور کیا جا سکے۔

ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے خلاف عاید پابندیوں میں نرمی نہ کی گئی تو وہ معاہدے میں یورنیم افزودگی روکنے سے متعلق کئے جانے والے وعدوں پر عمل درآمد روک دے گا۔

سات یورپی ملکوں آسٹریا، بلجیئم، فن لینڈ، ہالینڈ، سلوونیا، سپین اور سویڈن نے جمعہ کے روز اس امر کو واضح کر دیا کہ وہ ایران کے ساتھ طے والے جوہری معاہدے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ ان ملکوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ایران پر بھی معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا لازمی ہے۔

ویانا میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنے والے یورپی ممالک نے اپنے بیان میں اس امر کا اظہار کیا کہ انہیں معاہدے کی اقتصادی شقوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات کا مکمل ادراک ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی ممالک فرانس، برطانیہ، جرمنی اور یورپی یونین کے بیرونی ایکشن سیکشن کے ساتھ مل کر ایران کے لئے قانونی تجارت کی راہ ہموار کرانے میں مدد دیں گے۔

اس کے جواب میں ایران نے کہا ہے کہ اگر یورپی کوششیں ناکام ہوئیں تو وہ سخت اقدام اٹھانے پر مجبور پر ہو گا۔ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا ہے جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے یورپی ملک اگر ہمیں امریکی پابندیوں سے بچانے میں ناکام رہے تو تہران ’’فیصلہ کن اقدام‘‘ اٹھائے گا۔