.

ٹرمپ کا پوتین کے ساتھ ٹَھٹّھا: ’’ہمارے انتخابات میں دخل نہ دیجئے گا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے جمعہ کے روز شروع ہونے والے جی ٹوئنٹی سمٹ کی سائیڈ لائنز پر باہمی مذاکرات کرتے ہوئے ان سے’’ پیش آئند امریکی انتخابات میں مداخلت نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔‘‘

صدر ٹرمپ کا اظہار تفنن ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب کانگرس 2016 کے امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم چلانے والی ٹیم اور روس کے درمیان جوڑ توڑ کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

کیمروں کے فلیش کی چکا چوند میں صدر ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب سے از راہ تفنن یہ کہتے ہوئے مخاطب ہوئے کہ ’’پلیز! اگلے انتخاب میں مداخلت سے باز رہیے گا۔‘‘

پوتین سے ’’میرے تعلقات بہت اچھے ہیں‘‘: ٹرمپ

پوتین سے ہونے والی ملاقات کے آغاز پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اپنے روسی منصب سے میرے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ ولادی میر پوتین کے ساتھ بیٹھنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری مرتبہ ملاقات جولائی 2018 میں ہلسنکی کے مقام پر ہونے والے اجلاس میں ہوئی تھی۔

صدر پوتین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’مدت ہوئی کہ ہماری ملاقات نہیں ہوئی۔‘‘ تاہم اس دوران دونوں ملکوں کی انتظامیہ نے مل کر کئی کام سرانجام دیے۔‘‘

اُدھر دوسری جانب کریملن کے مشیر یوری اوشاکوو نے روس 24 چینل کو بتایا کہ ہم نے امریکی صدر کو دوسری جنگ عظیم میں فتح کے 75 ویں جشن کے موقع پر 09 مئی 2020 کو روس آنے کی دعوت دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی تاحال مدت صدارت میں روس کے ساتھ کے ان کے تعلقات کے بارے میں شہبات حاوی چلے آ رہے ہیں۔

رابرٹ ملر کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات ابھی تک کسی ایسی دوٹوک دلیل تک نہیں پہنچی جس سے یہ بات ثابت ہو سکے کہ روس نے ایک منظم مہم کے ذریعے امریکی انتخابات پر اثر ہونے کی کوشش کی، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب ہوئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ ملر رپورٹ کو اپنے لئے ’’کلین چٹ‘‘ سمجھتے ہیں، تاہم اس کے باوجود ان کے مخالفین سمجھتے ہیں کہ ان کے روسی صدر سے خفیہ تعلقات ہیں۔

گذشتہ برس امریکی صدر نے پوتین کے ہمراہ ہلسنکی میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے انکار کرتے ہوئے 2016 کے انتخاب میں روسی مداخلت پر تنقید کی تھی۔ ٹرمپ کے بقول وہ سمجھتے ہیں کہ ولادی میر پوتین انتخابات میں مداخلت سے انکار کے معاملے میں سچ بول رہے ہیں۔