.

سعودی لڑکی کی بدولت جنوبی کوریائی خواتین کے ہاتھ مہندی کے نقش و نگار سے مزیّن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی کوریا کے دارالحکومت میں (Bridges to Seoul) کے نام سے منعقد ہونے والی نمائش میں ایک سعودی لڑکی نے جنوبی کوریا کی خواتین کے ہاتھوں پر مہندی کے خوب صورت نقش و نگار بنا کر دھوم مچا دی۔

شاہ عبدالعزیز مرکز برائے عالمی ثقافت کی جانب سے منعقد کی جانے والی دس روزہ نمائش کا آغاز 24 جون کو ہوا تھا۔ نمائش میں سعودی ثقافت اور معاشرے کے مختلف زاویوں کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

نمائش میں 18 سالہ فاطمہ آل ابریہ مہندی لگانے کے اس مشرقی فن کو عالمی ممالک تک منتقل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ فاطمہ کا تعلق سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے ضلع قطیف سے ہے۔

فاطمہ قطیف ضلع میں مہندی سے نقش و نگار بنانے والی کم عمر ترین شخصیت کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے چھ سال کی عمر سے مہندی سے نقش و نگار بنانا شروع کیے تھے۔ بعد ازاں آٹھ برس کی عمر میں انہوں نے میلوں میں رضاکارانہ طور پر اس شوق کو عملی صورت میں انجام دیا۔

نمائش میں شرکت کے حوالے سے فاطمہ کا کہنا ہے کہ "مہندی کے نقش و نگار بنوانے کے حوالے سے جنوبی کوریا کے لوگوں کا رجحان شان دار ہے۔ انہیں اس فن نے مبہوت کر دیا اور وہ مختلف نوعیت کے نقش و نگار سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے نمایاں طور پر میری حوصلہ افزائی کی ہے۔ میں نے ان کے ساتھ انگریزی زبان یا پھر اشاروں کے ذریعے بات چیت کی۔ یہ نہایت تعاون کرنے والی قوم ہے"۔

کوریائی خواتین اپنے ہاتھوں پر مہندی کے خوب صورت ڈیزائن اور نقش و نگار بنوانے کے لیے فاطمہ کے اطراف منڈلاتی رہیں۔

فاطمہ اس سے قبل مملکت میں متعدد میلوں اور ایونٹس میں شریک ہو چکی ہیں۔ انہوں نے ابھرتی ہوئی کامیاب شخصیت کے طور پر قطیف اچیومنٹ ایوارڈ بھی اپنے نام کیا۔ وہ متعدد عرب چینلوں کی اسکرین پر بھی نمودار ہو چکی ہیں۔ فاطمہ نے برازیل اور قازقستان میں میلوں میں شرکت کے لیے خود کو نامزد بھی کیا مگر تعلیمی امتحانات کے سبب قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔

فاطمہ نے جنوبی کوریا میں ہونے والے اس ایونٹ میں شرکت پر اپنی گہری مسرت کا اظہار کیا۔