.

ایران کی سرحدیں یمن سے افریقا تک پھیل چکی ہیں: ابراہیم رئیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب خاص ابراہیم رئیسی نے ایرانی رجیم کے توسیع پسندانہ عزائم کا کھل کراعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی انقلاب تیزی کے ساتھ اپنے حدود اربعہ میں اضافہ کر رہا ہے۔ آج ایران کی سرحدیں یمن سے افریقا تک پھیلی ہوئی ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر نشر کیے گئے بیان میں ابراہیم رئیسی نے توسیع پسندانہ عزائم کی تحسین کی اور کہا کہ کل ہم اپنی سرحدوں کے اندر لڑتے تھے۔ آج انقلاب ایران کی توسیع سمندر پارک تک پہنچ گئی ہے۔ آج یمن سے افریقا تک ایرانی انقلاب کے چرچے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ابراہیم رئیسی نے عراق ۔ ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے 150 ایرانی فوجیوں کے حوالے سے منعقدہ ایک تعزیتی تقریب سے خطاب میں‌ کیا۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی فوج نے ایران میں تین اہم اہداف پر بم باری کا فیصلہ کیا تھا تاہم 150 افراد کی ممکنہ ہلاکت کے‌ خدشے کے پیش نظر بمباری ملتوی کر دی گئی۔

یمن کے حوالے سے ایرانی عہدیداروں کے بیانات کوئی نئی بات نہیں۔ ابراہیم رئیسی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب عرب اتحادی فوج یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے۔ یہ کارروائی حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون طیاروں کے ذریعے حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے۔

تیس مئی کو ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب علی فدوی نے کہا تھا کہ ایران یمن کے حوثی باغیوں کی ہر ممکن مدد اور معاونت جاری رکھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی بحری جہازوں کو یمن تک رسائی سے روکنا عرب اتحاد کی طرف سے یمن کی ناکہ بندی کے مترادف ہے۔

ایران کے ٹی وی چینل 3 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں علی فدوی کا کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کی مدد ہم پر فرض ہے اور ہم اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔