.

فلسطینی وزیر برائے القدس امور سے اسرائیلی پولیس کی پوچھ تاچھ ، چند گھنٹے کے بعد رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے فلسطین کے وزیر برائے القدس امور فادی الحدامی کو چند گھنٹے تک زیر حراست رکھنے کے بعد رہا کردیا ہے۔پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں شہر میں اسرائیلی قانون کے منافی سرگرمیاں منظم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ان کے وکیل کے مطابق پولیس نے ان سے ان سرگرمیوں پر پوچھ تاچھ کی ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق فادی الحدامی کو اتوار کی صبح مشرقی القدس ( یروشلیم ) میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ترجمان نے ان پر الزام عاید کیا کہ وہ یروشلیم میں ’’غیر متعیّنہ سرگرمیوں‘‘ میں ملوّث رہے ہیں۔

دوسری جانب ان کے وکیل مہند جبارہ نے کہا ہے کہ ان کے موکل کی گرفتاری ان کی حالیہ سرگرمیوں کے الزام میں عمل میں آئی تھی ۔انھوں نے حال ہی میں چلّی کے صدر کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد الاقصیٰ کا دورہ کیا تھا۔جبارہ کے مطابق حدامی کو بعد از دوپہر اسرائیلی پولیس نے رہا کردیا تھا۔

وہ گذشتہ منگل کے روز چلی کے صدر سیبسٹیئن پنیرا کے ہمراہ مسجد الاقصیٰ میں دیکھے گئے تھے۔اس پر اسرائیل آگ بگولا ہوگیا اور اس نے الزام عاید کیا کہ یہ دورہ سنتیاگو حکومت کے ساتھ سربراہ ریاست کے دورے کے لیے طے شدہ مفاہمت کی خلاف ورزی تھا۔اس کے علاوہ یہ قواعد وضوابط کی بھی خلاف ورزی تھا۔

چلّی نے بعد میں وضاحت کی ہے کہ صدر پنیرا نے فلسطینی وزیر حدامی کے ساتھ ذاتی حیثیت میں یہ دورہ کیا تھا اور یہ سرکاری پروٹوکول کا حصہ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس شہر پر قبضہ کر لیا تھ۔ بعد میں اس کے مغربی حصے کو ریاست میں ضم کر لیا تھا اور اس کو اپنا دارالحکومت قرار دے دیا تھا۔اسرائیل تمام القدس شہر کو اب اپنا دائمی دارالحکومت قراردیتا ہے جبکہ فلسطینی اس کو اپنی مستقبل میں قائم ہونےو الی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیرینہ تنازع کے متنازع فیہ مسائل میں سے ہے۔ یہود مسجد الاقصیٰ کو اپنے لیے مقدس خیال کرتے ہیں جبکہ مسلمانوں کا یہ قبلۂ اوّل ہے اوراس کی الحرمین الشریفین ( مسجد الحرام اور مسجد النبوی ) کے بعد تیسرے نمبر پر اہمیت ہے۔