.

امریکا کے ساتھ کشیدگی کے جلو میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیاں

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سرکردہ اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے الباسیج ملیشیا کے سربراہ غلام حسین غیب پرور اور مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر عطاء اللہ صالحی کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی 'ایرنا' کے مطابق سپریم لیڈر نے بریگیڈیئر محمد رضا آشتیانی کو مسلح افواج کا ڈپٹی کمانڈر اور غلام رضا سلیمانی کو باسیج ملیشیا کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے بریگڈیئر آشتیانی کی تعلیم اور قابلیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان پر زور دیا ہے کہ وہ مسلح افواج کو جدید سائنسی تقاضوں کے مطابق دفاعی اور سیکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل بنائیں۔

انہوں‌ نے باسیج ملیشیا کے نئے سربراہ پر بھی زود دیا کہ وہ انقلابی اقدار کے تحفظ، فیلڈ میں دفاعی ضروریات کی تکمیل اور باسیج فورس میں شامل جوانوں کی تربیت اور ان کی تنظیم سازی کے لیے موثراقدامات کریں تاکہ باسیج ملیشیا ملک کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائے۔ سپریم لیڈر نے جہادی مراکز کی توسیع اور پاسداران انقلاب کی مدد سے باسیج فورس کی دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی کےاداروں بالخصوص سول اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون کو یقینی بنانے کے لیےاقدامات کریں۔

خیال رہے کہ ایرانی فوج میں یہ تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں آئی ہیں جب امریکا اور ایران ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ خطے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے بڑھتے عزائم، امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدےسے علاحدگی اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری محاذ آرائی میں ایرانی فوجی قیادت میں‌ تبدیلیوں کو غیرمعمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے ساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی رجیم پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عاید کی ہیں۔ ایران اس وقت خطے میں فوجی جارحیت اور خطے کے ممالک اور امریکی مفادات کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

ایرانی فوجی قیادت میں سابقہ رد وبدل 19 اگست 2019ء کو کیا گیا تھا جب مسلح افواج کے سبراہ جنرل حسن شاہ صفی کو ان کےعہدے سے ہٹا کر جنرل عزیز ناصر زداہ کو نیا آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ جنرل ناصر نزادہ سنہ 1980ء میں عراق ۔ ایران جنگ کے دوران ایرانی پائلٹ کے طور پراس جنگ میں شریک تھے۔

گذشتہ برس 20 اگست کو سابق وزیر دفاع بریگیڈیئر حسین دھقان کو مسلح‌ افواج کی جنرل کمانڈ کا مشیر مقرر کیا گیا تھا۔