.

سیاسی حل کے بغیر اقتصادی روڈ میپ پر عمل نہیں ہو سکتا: کشنر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر نے بدھ کے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دیرینہ مسائل صرف اقتصادی روڈ میپ پر عمل کر کے حل نہیں ہو سکتے اس کے لئے [قضیہ فلسطین کا] سیاسی حل پیش کیا جانا ضروری ہے۔

واشنگٹن سے ’’العربیہ‘‘ کی نامہ نگار کے مراسلے میں بتایا گیا ہے جیرڈ کشنر ٹیلی فون پر صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینی صدر محمود عباس کے بہت زیادہ گرویدہ ہیں۔ وہ ان سے امریکی امن تجاویز کے ضمن میں کسی بھی وقت رابطے کے لئے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی نے بحرین ورکشاپ کا بائیکاٹ کر کے ’’فاش غلطی‘‘ کا ارتکاب کیا ہے۔

جیرڈ کشنر نے بتایا کہ آئندہ ہفتے امن منصوبے کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ کے لئے امریکی صدر کے مشیر جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ امریکی منصوبہ دراصل ’’صدیوں بعد ملنے والا موقع‘‘ ہے۔ یہ فلسطینی اور خطے کے عوام کے لئے ایک تاریخی موقع ہے۔

جیرڈ کشنر نے کہا: ’’ہم فلسطینی اور خطے کے عوام کے لئے تاریخی موقع پیدا کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ بعض لوگ بحرین ورکشاپ کو ’’صدی کی بدترین سودے بازی‘‘ قرار دے رہے ہیں حالانکہ یہ صدیوں بعد آنے والا موقع ہے۔ اہل اور دلیر قیادت ہی اس موقع سے کما حقہ فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لئے امن اور خوشخالی کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ سب عزت اور احترام سے رہ سکیں۔