.

فوجی میدان میں ہم نے دشمن کا ناطقہ بند کر دیا ہے: کمانڈر سپاہ پاسداران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپاہ پاسداران ایرانی انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ ’’ایران کے دشمن جنگ سے خائف ہیں اسی لئے انہوں نے اپنی توجہ تنازع کے معاشی پہلوؤں پر مرکوز کر رکھی ہے۔‘‘

گذشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے سے علاحدگی کے بعد سے امریکا۔ایران کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہی ہے جس کے بعد واشنگٹن نے ایرانی تیل کی بین الاقوامی منڈی میں فروخت پر پابندیاں عائد کر دیں۔

یاد رہے ایک ماہ قبل امریکا، ایران پر بمباری کا فیصلہ کر چکا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیصلے کے نفاذ سے چند منٹ لمحے قبل اس پر عمل درآمد روک دیا ۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا، ایران کو اپنا ڈرون مار گرانے پر سزا دینا چاہتا تھا لیکن اس کارروائی میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا گیا جس کے باعث حملے کا آپشن ملتوی کیا گیا۔

نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’’فارس‘‘ نے جنرل حسین سلامی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’’فوجی میدان میں ہم نے دشمن کا گھیرا تنگ کر دیا ہے‘‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "موجودہ صورتحال میں ایران کے دشمن جنگ سے خوفزدہ ہیں اور ان کا یہ خوف ان کے رویوں سے واضح ہے۔ ایسے میں دشمن نے ہم سے مالیاتی اور تجارتی میدان میں جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔"