.

مصر سمیت عرب سیاحوں کے لیے ترکی کی سرزمین تنگ ہو گئی!

سیاحوں سے لوٹ مار اور دھوکا دہی کے واقعات سےغیر ملکی سیاح ترکی سے بدظن ہونے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ملکوں کے شہریوں کی بڑی تعداد ہر سال موسم گرما کی تعطیلات گذارنے ترکی کا رخ کرتی ہے مگر امسال ان ملکوں کے شہریوں کے ترکی کےسیاحتی سفر میں کئی رکاوٹیں سامنے آئی ہیں‌ جس کے نتیجے میں عرب سیاحوں کی ترکی آمد میں تیزی کے ساتھ کمی آ رہی ہے۔

ترکی میں سعودی سفارت خانے کی طرف سے ترکی میں مقیم سعودی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ شہروں اور دور دراز کے علاقوں کے سفر میں احتیاط برتیں کیونکہ حالیہ دنوں میں ترکی میں عرب شہریوں کے پاسپورٹس چھینے جانیں، انہیں لوٹے جانے یا ان کے ساتھ دھوکہ دہی کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

ترکی میں اپنے شہریوں‌ کو محتاط سفر کی ہدایت صرف سعودی سفارت خانے کی طرف سے نہیں بلکہ مصر کی طرف سے بھی کی گئی ہے۔

مصری سیاحوں کی بڑی تعداد ہر سال گرمیوں‌ کے موسم میں ترکی کا رخ کرتی ہے۔ ترکی کرنسی کی قیمت میں کمی کے باعث رہائش اور دیگر سہولیات نسبتاً کم قیمت پردستیاب ہوتی ہیں۔

سیاحت کے لئے مصری کمپنیوں کے عہدیداروں‌ نے 'العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ' کو بتایا کہ مصر میں جون 2013ء کی بغاوت کے بعد ترکی نے اخوان المسلمون کی حمایت شروع کردی جس کے نتیجے میں مصری شہریوں کا ترکی کا سفر متاثر ہوا۔ مصری سیاحوں نے ترکی کے بجائے اندرون ملک الغردقہ، شرم الشیخ اور مطروح جیسے مقامات کی سیر پر توجہ مرکوز کی جب کہ بیرون ملک تھائی لینڈ اور قبرص کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی۔

سیاحتی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ خلیجی ملکوں میں مقیم مصری شہری بھی سیاحت کے لیے ترکی کا سفر کرتے ہیں مگر سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر ان کا ترکی کا سفر مشکل ہو گیا ہے۔ خاص طور پر 18 سے 40 سال کی عمر کے سیاحوں پر کڑی نظر رکھنی جاتی ہے۔

ترک سیاحت میں کمی

سیاحتی کمپنیوں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر مشکلات کے علاوہ ترکی میں سیاحوں کی آمد میں کمی کے کئی دیگر اسباب اور محرکات بھی ہیں۔ ترکی کے استنبول جیسے شہروں میں عرب سیاحوں کے اغواء، لوٹ مار، جعلی کرنسی کی شکل میں‌ دھوکا دہی اور نسل پرستانہ طرز عمل کے واقعات نے عرب سیاحوں کی ترکی آمد ورفت متاثر کی ہے۔ مصری سیاحتی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ تُرکی میں سیاحوں کے پاسپورٹس کی چوری معمول بن چکا ہے۔ خدشہ کے عرب شہریوں سے چھینے گئے پاسپورٹس مشکوک سرگرمیوں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

بہت سے مصری سیاحوں کا کہنا ہے کہ انہوں‌ نے جب ترکی کے سیاحتی ویزے کے لیے درخواست دی توہمیں کئی طرح کی مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔ سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بہت سے سیاحوں کو ترکی کے ویزے نہیں مل سکے۔

مصری وزارت سیاحت کے سابق مشیر سامح سعد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصری عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ سیاحت کی شکل میں ہم جو رقم ترکی میں‌ خرچ کرتے ہیں وہی رقم ترکی اخوان المسلمون کے دہشت گردوں کی مدد کرکے گولیوں کی شکل میں مصر کو واپس کر رہا ہے۔ مصری سیاحوں کے ترکی کے سفر سے گریز کی ایک وجہ ترک حکومت کی طرف سے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی غیر مشروط حمایت اور مدد بھی شامل ہے۔