.

عراقی ملیشیاؤں کو ہتھیار اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

دفاع جمہوریت فاؤنڈیشن کے حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کی تحقیقاتی رپورٹ میں لرزہ خیر انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ساؤتھ ویلتھ ریسورسز کمپنی SWRC کے عراقی ملیشیاؤں کو کروڑوں ڈالروں کا اسلحہ اسمگل کرنے میں ملوث ہونے کے انکشاف کے بعد امریکا نے کچھ عرصہ قبل کمپنی پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے نتیجے میں ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے زیر انتظام فرضی کمپنیاں جن کا صدر دفتر عراق میں ہے ،،، امریکی انتظامیہ کی پابندیوں کو بائی پاس کرتے ہوئے "قانونی پردے" کی آڑ میں عراقی مالیاتی نظام تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔

ایران میں اعلی ترین عسکری طاقت "ایرانی پاسداران انقلاب" فنڈنگ کے نئے ذرائع حاصل کر کے خطے میں مسلح جماعتوں کے لیے اپنی حمایت برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئی۔ ان ذرائع کو "امریکی پابندیوں کو چکمہ دینے والے نیٹ ورک" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس نیٹ ورک میں سیکڑوں کمپنیاں شامل ہیں جنہوں نے عام تجارت، منی ایکسچینجرز اور ترسیلات زر کی کمپنیوں کے علاوہ زرعی، صنعتی اور تعمیراتی شعبوں کی کمپنیوں کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ اس حوالے سے 667 کمپنیوں کا تعین کیا گیا ہے جن کا ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ تعلق کمپنی کے حصص میں حصے دار ہونے یا مینجمنٹ بورڈ میں عہدوں کی صورت میں ہے۔

اس بات کا انکشاف دفاع جمہوریت فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری اعداد وشمار سے ہوا جو العربیہ ڈاٹ نیٹ نے حاصل کیے۔

یہ کمپنیاں کیسے کام کرتی ہیں؟

عراق میں شدت پسند جماعتوں اور اسلام پسند گروپوں کے امور کے ماہر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں واضح کیا کہ یہ فرضی عراقی کمپنیاں تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتی ہیں۔ اس واسطے وہ عراقی سیاست دانوں، سیکورٹی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے علاوہ مرکزی بینک کے ساتھ ساز باز کے راستے پرمٹ، رجسٹریشن اور سرکاری دستاویزات حاصل کرتی ہیں۔ یہ سب کچھ ملک میں موجود مسلح ملیشیاؤں کے دباؤ سے انجام پاتا ہے۔ دباؤ ڈالنے والوں میں سرفہرست ایران نواز عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کا کمانڈر انجینئر ابو مہدی ہے۔

یہ درست ہے کہ امریکا نے متعدد بینکوں اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر کے پابندیوں کی لپیٹ میں لیا اور ان کی سرگرمیوں کو منجمد کر دیا۔ تاہم اس کے مقابل درجنوں متبادل کمپنیاں مختلف ناموں اور نئی انتظامیہ کے ساتھ 100 فی صد قانونی طریقہ کار اپنا کر قائم ہوتی جا رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی معلومات کے مطابق امریکی وزارت خزانہ نے البلاد اسلامک بینک فار انویسٹمنٹ اینڈ فنانس اور اس کے ڈائریکٹر اراس حبيب كريم الفيلی کو دہشت گردی سے متعلق فہرست میں درج کر کے اس پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے بعد بینک کا نام تبدیل کر کے "عطاء" کر دیا گیا اور نئے مینجمنٹ بورڈ کا تقرر عمل میں لایا گیا تا کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ سے تمعلق سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہے۔

اسی طرح کا معاملہ پابندیوں کی زد میں آنے والی دیگر منی ایکسچینج کمپنیوں نے بھی کیا۔ ان میں الکوثر ، سلسلۃ الذہب اور الراوی نامی کمپنیاں اور دیگر ادارے شامل ہیں۔

اسلحے کی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلانے والے 4 افراد

عراقی مسلح ملیشیاؤں کے ایک قریبی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ فرضی کمپنیوں کی آڑ میں عراق ایران سرحد پر ملیشیاؤں کو ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے حوالے سے سرگرم اور فعّال ذمے داران چار افراد ہیں۔ ان میں دو عراقی، ایک لبنانی اور ایک شامی ہے۔

1 ۔ شبل الزیدی : یہ عراقی شہریت رکھتا ہے اور ایرانی پاسداران انقلاب میں القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ وہ اس وقت عراقی تنظیم امام علی بریگیڈز کے سکریٹری جنرل کی ذمے داریاں بھی انجام دے رہا ہے۔ دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ فرنیچر کمپنی اور انڈے درآمد کرنے والی کمپنی کا مالک ہے۔ تاہم درحقیقت یہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا ذریعہ ہیں۔

2 ۔ الشیخ حسین الصافی : یہ الزیدی کا معاون ہے اور عراقی شہریت رکھتا ہے۔

3 ۔ الشیخ محمد کوثرانی : یہ لبنانی شہریت رکھتا ہے اور حزب اللہ کی رقوم سے ہتھیاروں میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔

4 ۔ محمد جابر ابو جعفر : یہ شام کی شہریت رکھتا ہے اور شامی صدر بشار الاسد کی اپنی رقوم سے ہتھیاروں کی تجارت میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ یہ ایک تجارتی کمپنی رکھنے کا دعوی کرتا ہے تاہم یہ کمپنی عراق اور شام کے درمیان اور عراق اور ایران کے بیچ ہتھیاروں اور تیل کے علاوہ ایسا مواد اسمگل کرتی ہے جو منشیات کے زمرے میں آتا ہے۔

مذکورہ ذریعے کے مطابق یہ چار افراد 8 سے 9 ارب ڈالر کی رقوم کا سلسلہ چلا رہے ہیں۔ یہ رقوم عراق، ایران، شام اور لبنان میں ہتھیاروں کی تجارت میں زیر گردش ہیں۔ ان میں 3 ارب ڈالر اُن ہتھیاروں کی قیمت ہے جو مارچ 2015 سے اگست 2017 کے درمیان عراقی ملیشیاؤں کے لیے اسمگل کیا گیا۔

یہ چاروں افراد مختلف سیکٹروں میں درجنوں فرضی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ ان کمپنیوں کے پاس ایران سے اشیاء درآمد کرنے کا اجازت نامہ ہے تاہم درحقیقت ان کے پاس ہتھیاروں سے بھری کھیپیں آتی ہیں۔ ان کھیپوں کی تین سرکاری سرحدی کراسنگوں پر کوئی کسٹم نگرانی یا تفتیش نہیں ہوتی۔

ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ اگر اسمگل کرنے والے کا تعلق کسی مسلح گروپ سے ہے تو اسے کسی خاص نیٹ ورک کی بھی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ اس کی کھیپ سرحد پر (11) غیر سرکاری کراسنگوں کا سہارا لیے بغیر سرکاری طور پر گزر جاتی ہے۔

اسمگلنگ کا نقشہ

ذرائع نے واضح کیا کہ ہتھیاروں کے بیوپاری دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ جو کسی ایک مسلح گروپ کے ساتھ مربوط ہیں اور دوسرے وہ جو تمام مسلح گروپوں کو ہتھیار فروخت کرتے ہیں۔

ان تاجروں کے صدر دفاتر (دیالی صوبے میں) الخالص ، (بغداد کے جنوب میں) النہروان اور (عراقی ایرانی سرحد پر) میسان صوبے میں واقع ہیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ کوئی بھی تاجر اُس وقت تک عراقی مسلح ملیشیاؤں کے لیے ہتھیار نہیں خرید سکتا جب تک وہ بھتوں کی ادائیگی نہ کرے اور پولیس افسران اور عراق ایران سرحد پر وسیع اثر و رسوخ رکھنے والی ملیشیا کے ساتھ رابطہ کاری میں نہ ہو۔

معلومات کے مطابق ایران سے عراق آنے والے اسلحے کی کھیپوں کے لیے درج ذیل روٹ اپنایا جاتا ہے۔ اسلحے کے ٹرک ایران کے دو علاقوں "عبادان" اور "المحمرہ" سے نکلتے ہیں۔ اسمگلر کے لیے لازم ہے کہ اس کے سرحدی سیکورٹی حکام کے ساتھ رابطے ہوں تا کہ اسلحے کی کھیپ ایران عراق سرحد پر چار گزر گاہوں کے راستے بنا تلاشی کے داخل ہو کر بغداد کے قلب مین پہنچ سکے۔ ان چار گزر گاہوں کا نام الشلامجہ، خانقين، جضان اور زرباطيہ ہے۔

امریکی انٹیلی سے با خبر ایک ذریعے کے مطابق گذشتہ دو ماہ میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے یونٹوں نے مغربی عراق میں عراقی مسلح گروپوں وار جماعتوں کے حق میں خالی اور غیر آباد گھروں کی خریداری کو آسان بنایا۔ اس کے نتیجے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ ایسے سیاسی اور عسکری اتحادوں نے ھنم لیا جن پر قابو کرنا دشوار ہے۔

اس پوری صورت حال میں امریکی پابندیاں کہاں ہیں؟

تیل ، پیٹروکیمیکلز اور صنعتی معدنیات کے سیکٹروں میں ایرانی برآمدات پر امریکی پابندیاں اس بات کے لیے کافی نہیں رہیں کہ تہران کو اپنا برتاؤ تبدیل کرنے پر مجبور کر سکیں اور منی لانڈرنگ اور اسلحے کی اسمگلنگ کے ذریعے پابندیوں کو بائی پاس کرنے سے روک سکیں۔ بالخصوص جب کہ عراقی ملیشیاؤں کی اجرتوں کی مد میں فنڈنگ عراقی حکومت کی جانب سے ہوتی ہے لہذا یہ فنڈنگ ایرانی پاسداران انقلاب پر عائد پابندیوں سے متاثر نہیں ہوئی۔

رواں سال مارچ میں امریکی وزارت خزانہ نے پاسداران انقلاب کی ملکیت میں الانصار بینک کے ساتھ لین دین پر پابندی عائد کی تھی۔ امریکی وزارت خزانہ کے مطابق یہ بینک القدس فورس کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مرکزی ذریعہ ہے۔ اس کے باوجود اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران الانصار بینک میں جمع ہونے والی نقد رقم میں 4% کا اضافہ ہوا۔

خاتم الانبياء

یہ ہی بات "خاتم الانبياء" کمپنی پر لاگو ہوتی ہے جو ایرانی پاسداران انقلاب کا انجینئرنگ ڈویژن ہے۔ اگرچہ اسے امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا تاہم اس کی سرگرمیوں کا خاتمہ دشوار امر ہے۔

با خبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ خاتم الانبیاء کمپنی کے پاس عراق میں 25 سے زیادہ سیکنڈری کنٹریکٹرز ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیکنڈری کنٹریکٹر کے پاس سوئفٹ سسٹم کے ضمن میں مالی رقوم نہیں ہوتیں۔ یہاں تک کہ بینکوں میں جمع کرائی جانے والی رقوم بھی مینجمنٹ بورڈ کے ارکان کے نام سے نہیں بلکہ دیگر ناموں پر جمع ہوتی ہیں۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے تساہل ؟

"امریکی پابندیوں کے نظام میں طویل مدتی لحاظ سے ممکنہ طور پر کمزوری کا پہلو ہے"۔ اس بات کا انکشاف Foundation for defense of democracies کے ایک امریکی محقق Matthew Zweig نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں کیا۔ انہوں نے اُن وجوہات پر روشنی ڈالی جن کے سبب امریکی پابندیاں ایران کا رویہ تبدیل کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

میتھیو کے مطابق امریکی وزارت خزانہ نے ابھی تک اس حتمی ضابطے کا اجرا نہیں کیا جو دہشت گردی کے انسداد کے قانون US PATRIOT ACT کی شق 311 کے تحت اُن احتیاطی اقدامات کا تعین کرے جو ایران کو منی لانڈرنگ کی کارروائیوں سے روکنے کے لیے امریکا کو لازما کرنا ہوں گے۔

میتھیو کے خیال میں امریکی انتظامیہ شاید ابتدا میں یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ اولین ترجیح پابندیوں کا دائرہ کار وسیع کرنے کو دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ پر لازم ہے کہ وہ اپنے حتمی فیصلے کے دائرہ کار کو پھیلانے کے بارے میں سوچے تا کہ اس میں کسی بھی ایسے غیر ملکی بینک کو شامل کیا جا سکے جو جزوی طور پر ہی کسی ایرانی مالیاتی ادارے یا کسی شخصیت کی ملک میں ہو۔ فی الحال یہ حد 50% یا اس سے زیادہ کی ملکیت ہے۔ اس طرح خصوصی طور پر امریکی بلیک لسٹ "SDN" میں مندرج کسی بھی فرد کی جزوی ملکیت میں موجود بینک یا کمپنی بھی پابندیوں کے دائرہ کار میں آ سکے گی۔

امریکی محقق کے مطابق پابندیاں ،،، قومی سلامتی کی پالیسی کا ایک آلہ ہے جو اس طرح کے کئی آلات کی متقاضی ہے تا کہ خطے میں ایرانی ایجنٹوں اور ان کے دھڑوں کی صورت میں موجود خطرے پر مؤثر طور پر روک لگائی جا سکے۔

ان تمام اعداد و شمار کے بعد یہ سوال جنم لیتا ہے کہ ... کیا یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ "چکمہ دینے والے نیٹ ورک" کم از کم عراق میں "امریکی پابندیوں کے نیٹ ورک" پر فتح حاصل کر چکے ہیں ؟ یا پھر امریکی انتظامیہ خود سے "دانستہ" تساہل کا مظاہرہ کر ہی ہے تا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے؟