.

ایرانی ٹی وی کی جانب سے "پول کھولے جانے" پر وزیر تیل چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر تیل بیژن زنگنہ نے ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی اس رپورٹ کو تنقید کا نشنہ بنایا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک بحری جہاز نے کامیابی کے ساتھ چین پہنچ کر وہاں تیل کی کھیپ حوالے کر دی۔ یہ امریکی پابندیوں کو چکمہ دینے کا واضح ثبوت ہے۔

ایرانی ٹی وی نے منگل کے روز ایک براہ راست پروگرام کے دوران سیٹلائٹ تصاویر نشر کی تھیں۔ ان تصاویر میں ایرانی وزارت تیل کا ایک تیل بردار جہاز چین میں ایک بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے اور وہاں تیل کی کھیپ حوالے کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔

ایرانی وزیر تیل بیژن زنگنہ نے اپنے تبصرے میں اس پروگرام پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے "خفیہ امر کا پول کھول دیا" اور پابندیوں سے بچنے کے سلسلے میں ملک کی تمام تر کوششوں کو برباد کر ڈالا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر ایجنسی IRNA کے مطابق زنگنہ کا کہنا ہے کہ "بعض غیر ملکی ذرائع ابلاغ ہمارے دشمن ہیں جو اس موضوع کو دوبارہ نشر کر رہے ہیں .. یہ غیر قانونی عمل ہے"۔

ایرانی ٹیلی وژن نے منگل کے روز اپنی رپورٹ میں ایرانی تیل بردار جہاز "سرينا" کی جانب سے چین جانے کے لیے اپنایا گیا رُوٹ بھی دکھایا۔

رپورٹ کے نشر ہونے کے بعد سوشل میڈٰیا پر لوگوں کی جانب سے فوری ردود عمل سامنے آنا شروع ہو گئے۔ بعض صارفین کے مطابق ایرانی ٹی وی کی رپورٹ نے پابندیوں کو چکمہ دینے کے حوالے سے خفیہ معلومات اِفشا کر دیں۔

مذکورہ تمام تنقید اور نکتہ چینی کے جواب میں ایرانی نشریاتی ادارے کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ رپورٹ میں پیش کردہ معلومات نئی نہیں ہیں ،،، اور سیٹلائٹ تصاویر بین الاقوامی جریدے فنانشل ٹائمز میں مزید تفصیلات کے ساتھ پہلے ہی شائع ہو چکی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملائیشیا میں بیس لاکھ بیرل ایرانی تیل ایک چینی تیل بردار جہاز میں منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ چین روانہ ہو گیا۔

مذکورہ ایجنسی نے گذشتہ ماہ کے دوران ایرانی خام تیل کی پیداوار کا اندازہ 3 لاکھ بیرل لگایا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ تیل کی کھیپوں کو کن ملکوں کو برآمد کیا گیا۔

گذشتہ نومبر میں ایران کی تیل کی برآمدات پر جامع پابندی سے قبل ایران یومیہ تقریبا 25 لاکھ بیرل تیل برآمد کر رہا تھا۔

امریکی پابندیوں نے ایرانی معیشت پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایرانی نظام کے دھڑوں یہاں تک کہ موجودہ حکومت کے اندر بھی اختلافات نے جنم لے لیا ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ ابوالفضل ابو ترابی کے مطابق ملک پر امریکی پابندیوں کے اثرات کے حوالے سے ایرانی وزیر تیل بیژن زنگنہ کے صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔

زنگنہ نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ تیل اور پیٹروکیمیکلز کے شعبوں کے خلاف امریکی پابندیاں "فراست کی حامل پابندیاں ہیں جو شیطانی مرحلے تک پہنچ چکی ہیں"۔

ایرانی وزیر تیل نے کہا کہ موجودہ صورت حال عراق کے خلاف جنگ سے زیادہ دشوار اور کٹھن ہے۔ زنگنہ نے باور کرایا کہ امریکیوں نے ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین منظم پابندیاں عائد کی ہیں۔