.

خوشخبری! اب دبئی میں اپنے گھر کا مالک بننے کا خواب حقیقت بننے جا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی حکومت کی جانب سے منظور کیا جانے والا Lease ending in Ownership کا قانون اُن لوگوں کے لیے مناسب حل ثابت ہو سکتا ہے جو گھر کی قیمت کا 25% حصّہ پہلی ادائیگی کے طور پر دینے کی قدرت نہیں رکھتے۔ عام حالات میں رہائشی یونٹ کا قبضہ ملنے تک قسطوں کی ادائیگی کے ساتھ حالیہ گھر کا کرایہ ادا کرنا لوگوں پر بھاری بوجھ ہوتا ہے۔

دبئی کے لینڈ ڈپارٹمنٹ نے لوگوں کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے ایک نظام کی منظوری دی ہے جو بیرون ممالک میں Lease ending in Ownership کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نظام دبئی میں فروخت کنندہ اور خریدار کے درمیان معاہدے کے تحت صرف تیار جائیداد پر لاگو ہوگا۔ اس سلسلے میں خریدار کو دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کی جانب سےTitle Deed جاری کی جائے گی تاہم یہ ادائیگی کے پلان کے ساتھ مقید ہو گی اور اس کی مقررہ شرائط اور شقیں ہوں گی۔

یہ نظام بینک فنانس کے ذریعے قسطوں کے نظام سے بڑی حد تک ملتا جلتا ہے مگر اس میں (جائیداد کی قیمت کا 25% بطور) پیشگی ادائیگی کے طور پر پہلی قسط اور مارک اپ نہیں ہو گا۔ یہ بات دبئی میں پراپرٹی کے امور کے ماہر مہند الوادیہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں بتائی۔

اس نظام کے تحت جائیداد خریدار کے نام رجسٹر ہو گی جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے رہائشی یونٹ کو آگے کسی تیسرے شخص کو کرائے پر دے سکتا ہے یا فروخت کر سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے یونٹ کے حقیقی مالک کی منظوری اور اس کی جانب سے NOC جاری کیے جانے کی شرط لازم ہو گی۔

عام لیزنگ کے نظام میں خریدار کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ معاہدے کی مدت پوری ہونے سے قبل جائیداد کو کسی کو کرائے پر دے سکے۔

مہند الوادیہ کے مطابق کرائے کے معاہدے کی مدت مالک اور کرائے دار کے درمیان اتفاق رائے پر منحصر ہے۔ یہ مدت 4 سال سے 20 سال کے درمیان ہو سکتی ہے۔ اس دوران کرائے کی رقیم یکساں رہے گی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ کرائے کی مد میں تمام ادائیگی فروخت کی جانے والی جائیداد کی مجموعی قیمت سے منہا ہوتی رہے گی۔

خریدار کو معاہدہ منسوخ کرنے کا بھی حق حاصل ہو گا۔ اس پر کوئی جرمانہ لاگو نہیں ہو گا اور ادا کی جانے والی رقم کو خریدار کے اس جائیداد میں رہنے والی مدت کا کرایہ شمار کر لیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تجرباتی طور پر دبئی میں اس قانون پر 6 ماہ سے عمل درامد جاری ہے۔ اس دوران 300 معاہدے سامنے آئے۔

البتہ یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے کہ ... کیا اس قانون کا اُن سرمایہ کاروں پر منفی اثر پڑے گا جو اپنی جائیداد کو فروخت نہیں کرنا چاہتے اور صرف کرائے پر دینا چاہتے ہیں ؟

اس کے جواب میں مہند الوادیہ نے کہا کہ دبئی حکومت آزاد مارکیٹ کی مساوات پر یقین رکھتی ہے جو طلب اور رسد پر قائم ہو۔ اس قانون کے حوالے سے جن اندیشوں کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ بلا جواز ہیں۔ اس لیے کہ یہ قانون مارکیٹ میں موجود جائیداد کی مجموعی تعداد میں محض 2 یا 3% پر لاگو ہو گا۔ تمام ڈیولپرز کے لیے اس طرح کی پیش کش کرنا ممکن نہیں ہو گا۔