.

شام : داعشی خاتون نے کیمپ کے کُرد پہرے دار کو چاقو سے زخمی کر ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صوبے الحسکہ کے انتہائی جنوب مشرق میں واقع الھول کیمپ میں ایک داعشی کی غیر ملکی "بیوی" نے کیمپ پر کنٹرول رکھنے والی کرد سیکورٹی فورسز کے ایک اہل کار کو چاقو کے وار سے زخمی کر دیا۔

مذکورہ کیمپ میں داعش تنظیم کے عناصر کے ہزاروں اہل خانہ رہ رہے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز اُس وقت پیش آیا جب داعشیوں کے اہل خانہ میں شامل ایک خاتون سیورٹی فورسز کے ایک اہل کار کے ساتھ کیمپ کے بازار جا رہی تھی۔

یاد رہے داعشی ارکان کی غیر ملکی خواتین کو جو مہاجرات کے نام سے جانی جاتی ہیں ،، چند ماہ قبل کیمپ کے بقیہ افراد سے علاحدہ کر دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ مذکورہ خواتین کے بقیہ داعشی خواتین ارکان یا کیمپ کے دیگر افراد کے ساتھ ہونے والے اختلافات تھے۔ داعش کے غیر ملکی عناصر کی خواتین کو ایک علاحدہ گروپ میں سخت سیکورٹی پہرے میں رکھا گیا ہے۔

کرد نیوز نیٹ ورک روداد کے مطابق ان "مہاجرات" کو سیکورٹی اہل کاروں کے بغیر نقل و حرکت یا کیمپ کے بازار آمد و رفت کی اجازت نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے داعشی خاتون کے ہاتھوں چاقو کے وار سے زخمی ہونے والے کُرد اہل کار کا نام عزالدين احمد علاوی ہے اور وہ اس وقت الحسکہ کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

ذرائع کے مطابق حملہ آور خاتون کارروائی کے بعد کیمپ کے اندر روپوش ہو گئی ہے۔ اس کے نقاب پہننے اور چہرے کے خد و خال معروف نہ ہونے کے سبب ابھی تک اس کی شناخت نہیں ہو سکی۔

چاقو سے وار کرنے کے بعد حملہ آور خاتون نے ہوائی فائرنگ بھی کی تا کہ لوگوں کے جمگھٹا منتشر کیا جا سکے جو سیکورٹی فورسز کی جانب سے خاتون کے تعاقب کے سبب جمع ہو گیا تھا۔